غزہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ نے کہا ہے کہ مصرکی طرف سے باضابطہ طور پر مذاکرات کی دعوت نہیں ملی تاہم انہیں توقع ہے کہ جلد ہی مصری قیادت اس حوالے سے کوئی مؤثر فیصلہ کرے گی۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حماس کے مرکزی رہنما اسماعیل رضوان نے کہا کہ ابھی تک انہیں برادر عرب ملک مصر کی طرف سے مذاکرات کی باضابطہ دعوت نہیں ملی۔ اس حوالے سے جتنی بھی خبریں آرہی ہیں وہ سب بے بنیاد ہیں۔فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسماعیل رضوان نے کہا کہ مصرکی جانب سے دو طرفہ مذاکرات شروع شروع کرنے کی خواہش کا اظہار اور فلسطینیوں کےمابین مفاہمت کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں اسماعیل رضوان نے کہا کہ حماس غزہ کی پٹی سے متعلق مصری ویژن کا خیر مقدم کرتی ہے اور رفح گذرگاہ کو کھولے جانے کی کوششوں اور غزہ کی پٹی پر عائد پابندیوں میں نرمی کی کوششوں کوسراہتی ہے۔ فلسطینی قوم کو اس بات پر اطمیان اور خوشی ہے کہ مصری قیادت نے غزہ کی پٹی کے عوام کی مشکلات اور ضروریات کو سمجھا ہے۔
فلسطین میں سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت کے لیے قاہرہ کے کردار پربات کرتے ہوئے حماس رہنما نے کہا کہ Â مصر فلسطینیوں کے درمیان مصالحت کے لیے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے صدر محمود عباس پر زور دیا کہ وہ قومی مفاہمت کے لیے حماس اور مصر کی کوششوں میں تعاون کریں۔
اسماعیل رضوان کا کہنا تھا کہ قومی مفاہمت کی کنجی محمود عباس کے ہاتھ میں ہے۔ توقع ہے کہ تحریک فتح کی قیادت قومی سیاسی شراکت کے اصول پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ہرممکن تعاون کرے گی اور اس مقصد کے لیے کسی قسم کی سستی اور ڈھیل کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔
