حماس کے ترجمان ’حازم قاسم‘ نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں حماس کے صدر یحییٰ السنوار کی قیادت میں ایک وفد کل قاہرہ پہنچا ہے۔ حماس کا وفد قاہرہ حکام سے غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی گیارہ سال سے مسلط معاشی پابندیوں اور ان کے نتیجے میں عوام کو درپیش مشکلات، ان کےحل، غزہ کی ناکہ بندی میں نرمی کے لیے مصری کردار، رفح گذرگاہ کھولے جانے سمیت دیگر حل طلب امور پربات چیت کرے گا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ مصری قیادت اور حماس کے وفد کے درمیان ہونے والی ملاقات کے ایجنڈے میں بدلتے علاقائی حالات کے تناظر میں مسئلہ فلسطین Â اور حماس اور قاہرہ کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات شامل ہوں گے۔
حماس کا وفد غزہ کی پٹی کی سرحد پر سیکیورٹی تعاون اور رفح گذرگاہ کو کھولے جانے کے حوالے سے بھی بات چیت کرے گا تاکہ محاصرے کا شکار غزہ کے عوام کو سکھ کا سانس لینے کا موقع فراہم کیا جاسکے۔
خیال رہے کہ غزہ کے علاقے کا بین الاقوامی دنیا سے رابطے کا وحد راستہ مصر کی طرف سے رفح گذرگاہ ہے مگر یہ گذشتہ 2013ء کے بعد سے تقریبا مستقل بند ہے۔ سال بھر میں یہ گذرگاہ محض چند ایام کے لیے کھولی جاتی ہے۔ سرحد کی بندش اور اسرائیلی حکومت کی طرف سے مسلط کردہ معاشی پابندیوں کے نتیجے میں غزہ کے عوام کو بدترین بحرانوں کا سامنا ہے۔ ان میں بجلی اور پانی کے بحران زیادہ خطرناک شکل اختیار کرگئے ہیں۔
حماس رہنما Â یحییٰ السنوارمصر کے ساتھ مذاکرات کے کسی وفد میں پہلی بار شامل ہو رہے ہیں۔ انہیں چند ماہ قبل غزہ کی پٹی میں اسماعیل ھنیہ کی جگہ جماعت کے سیاسی شعبے کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اسماعیل ھنیہ کو مرکزی پولیٹ بیورو کا صدر منتخب کیا گیا۔
