(روزنامہ قدس ۔آن لائن خبر رساں ادارہ) حماس نے شرپسند یہودی آبادکاروں کی صیہونی ریاستی سرپرستی میں قبلہ اول مسجد اقصیٰ کی مسلسل ہونے والی بے حرمتی اور فلسطینی نمازیوں کی گرفتاریوں کے ردعمل میں نئی تحریک انتفاضہ شروع ہوسکتی ہے۔
صیہونی ریاست کے خلاف برسرپیکار اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے رکن ماہر عبید نے اپنے ایک بیان میں شرپسند یہودی آبادکاروں کی حکومتی سرپرستی میں ہونے والی مسجداقصیٰ کی بے حرمتی پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ اسرائیل کا فلسطینی نمازیوں کے خلاف ناجائز کریک ڈاؤن اور مسجد اقصیٰ کے مرابطین کو حراست میں لینے کے بعد انہیں بے دخل کرنا مسجد اقصیٰ اور دیگر اسلامی مقدس مقامات کی مسلسل بے حرمتی ناقابل قبول ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسرائیلی ریاست کے اس مکروہ حربے کے نتیجے میں فلسطین میں شدید غم وغصے کی لہر پیدا ہو رہی ہے جو ایک نئی تحریک انتفاضہ کا موجب بن سکتی ہے۔
خیال رہے کہ بیت المقدس کے وہ شہری جو اپنا زیادہ وقت قبلہ اول میں عبادت میں صرف کرتے اور یہودی آباد کاروں کے دھاووں کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ ‘مرابطین’ کہلاتےہیں۔بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے تقریبا تمام فلسطینی مرابطات یا مرابطین ہیں اور ان کی مسجد اقصیٰ سے گرفتاریوں کا سلسلہ معمول کے مطابق جاری رہتا ہے۔مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض فورسز نے مسجد اقصیٰ کے باب السلسلہ چار فلسطینی مرابطات کو حراست میں لے لیا۔ ان کی شناخت ھنادی الحلوانی اور خدیجہ خویص اور میڈلین عیسیٰ اور عایدہ الصیداوی کےناموں سے کی گئی ہے۔
