فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر بردویل نے ایک انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حماس نے قومی حکومت کے متوازی حکومت قائم نہیں کی تاہم حماس فلسطینی مجلس قانون ساز کو ملک کا سب سے بڑا اور ذمہ دار قانون ساز ادارہ قرار دیتے ہوئے آئین سازی کا فورم اسی کو تسلیم کرتی ہے۔ حکومت کی طرف سے غزہ کی پٹی کے عوام کے مسائل کے حل کے حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اگر حکومت اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں کوتاہی کا مظاہرہ کرتی ہے کہ حماس اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے میں سستی نہیں کرے گی۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر بردویل نے کہا کہ حماس اور تحریک فتح کے درمیان قومی مفاہمت کے حوالے سے کئی اہم نکات پر اتفاق رائے طے پا گیا تھا مگر صدر محمود عباس کی ڈکٹیٹرشپ نے اس میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔
غزہ میں ساحلی کیمپ معاہدہ قومی اتفاق رائے کی بہترین مثال تھی۔ اسی اتفاق سے فلسطین میں قومی اتفاق رائے سے حکومت تشکیل دی گئی مگر تنظیم آزادی فلسطین کی تشکیل نو کے لیے حکومت کا اجلاس نہیں ہونے دیا گیا۔ غزہ کی پٹی کے سرکاری ملازمین کو تسلیم کیا گیا اور نہ ہی غزہ میں بجلی کے بحران کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی۔
ڈاکٹر بردویل نے اپنے انٹرویو میں فلسطین کی موجودہ صورت حال، مصر کے ساتھ تعلقات، تحریک انتفاضہ القدس اور دیگر اہم قومی اور علاقائی امور پرسیر حاصل گفتگو کی۔ ان کا تفصیلی انٹرویو اردو قارئین کی خدمت میں جلد پیش کیا جائے گا۔
