فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق خالد مشعل نے ان خیالات کا اظہارترکی کے شہر استنبول میں منعقدہ ایک القدس انٹرنیشنل یوتھ کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کا دفاع اور اس کی آزادی، بیت المقدس کو پنجہ یہود سے آزاد کرانے کے لیے فلسطینی قوم کو جہاد اور مسلح مزاحمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داریوں میں ایک بڑی ذمہ داری القدس کے ساتھ اپنے رشتے کو مضبوط کرنا ہے۔ جب تک القدس آزاد نہیں ہوتا اس وقت تک فلسطین کی آزادی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
خالد مشعل نے کہا کہ بیت المقدس قضہ فلسطین کا عنوان ہے۔ فلسطینی قوم اور ہمارے دشمن کےدرمیان جاری کشمکش میں القدس کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ فلسطینی قوم آج تک اپنے خون سے القدس کی آزادی کے لیے جاری تحریک کی آبیاری کررہی ہے۔ پوری فلسطینی قوم کو بغیر کسی گروپ بندی یا افراط وتفریط کے القدس کے دفاع کے لیے جدو جہد جاری رکھنا ہوگی۔
حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ نے فلسطینی قوم پر زور دیا کہ وہ قبلہ اوّل کے دفاع اور القدس کی آزادی کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کردیں۔ صہیونی ریاست اور اس کے تمام ادارے اور معاون تنظیمیں بیت المقدس کو یہودیانے کی سازشوں میں سرگرم ہیں۔ دشمن کی ان تمام سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے فلسطینی قوم کو بھی اپنی جدو جہد کو تیز تر کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بیت المقدس جنگ یا امن کی چابی ہے۔ دنیا امن چاہتی ہے تو بیت المقدس کو فلسطینی قوم کے حوالے کردے ورنہ جب تک القدس آزاد نہیں ہوجاتا اس وقت تک جنگ جاری رہے گی۔
خالد مشعل نے اپنے خطاب میں عالم اسلام کی طرف سے بیت المقدس کے اہم ترین معاملے کو نظر انداز کیے جانے پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل دن رات اور علی الاعلان بیت المقدس کا نقشہ بدلنے اور مسجد اقصیٰ کی تقسیم کی سازشیں کررہا ہے مگر عالم اسلام اور عرب ممالک القدس اور قبلہ اوّل کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے بجائے مجرمانہ غفلت کا شکار ہیں۔
انہوں نے امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ نئے امریکی صدر کو یہ احساس کرنا ہوگا کہ اسرائیل امریکا پر ایک بوجھ ہے اور اسے بوجھ کو اتار پھینکنا ہوگا۔ امریکی کی نئی انتظامیہ کو اس حقیقت کا بھی ادراک کرنا ہوگا کہ جب تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اس وقت تک خطے میں امن اور استحکام کی تمام کوششیں رائےگاں جائیں گی۔
