مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں مصری سیاست دان کا کہنا تھا کہ عدالت کی طرف سے حماس کے بارے میں جو فیصلہ صادر ہوا ہے یہ مصرکی موجودہ مقتدرہ کی ترجمانی کرتا ہے جو اس وقت اپنی تمام تر کوششیں صہیونی ریاست کا قرب حاصل کرنے میں صرف کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مصر کی تمام عدالتیں اس وقت مصری حکمرانوں کے ہاتھوں کا ایک آلہ ہیں جن کی مدد سے وہ اپنے سیاسی مخالفین کو دبانے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل ان کے اقتدار کو دوام دلوائے گا۔
مصری رہ نما محمد الزوبع کا کہنا تھا کہ حماس کو دہشت گرد اور مجرم قرار دینا پوری مصری قوم کو مجرم ثابت کرنے کے مترادف ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس فیصلے نے غزہ، فلسطینی عوام اور فلسطینیوں کی آزادی کی تحریک کو بھی جرم ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ ہفتے کے روز مصر کی ایک مقامی عدالت نے اپنے فیصلے میں حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
