حماس کے اس بیان کے ردعمل میں اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی چیخ پکار بھی قابل دید ہے۔ حماس کی جانب سے صہیونی ریاست کو بھیجے گئے پیغام کے رد عمل میں ایک طوفان سرپر اٹھایا گیا ہے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ حماس چالاکی کا مظاہرہ کرتےہوئے لاپتا یہودی فوجیوں کا معاملہ ذرائع ابلاغ میں زندہ رکھنا اوررائے عامہ میں اسے تازہ رکھنا چاہتی ہے تاکہ اسرائیل کو یہ پیغام دیا جاسکے کہ وہ فلسطینی اسیران کی رہائی کے لیے کوئی نئی ڈیل کرنے میں تاخیر سے کام نہ لے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کا یہ بھی کہنا ہے کہ حماس ایک نفسیاتی جنگ لڑ رہی ہے۔ یرغمال بنائے گئے اسرائیلی فوجیوں کے بارے میں بیانات جاری کرنا حماس کی اسرائیل کے خلاف جاری نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے۔ ذرایع ابلاغ کا کہنا ہے کہ حماس اسرائیل کی موجودہ صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مغوی فوجیوں کا معاملہ اچھال کریہ ثابت کرنا چاہتی کے کہ اس کے پاس اسرائیل کے کئی فوجی جنگی قیدیوں کی شکل میں موجود ہیں اور انہیں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں ہی رہا کیا جاسکتا ہے۔
خیال رہے کہ پچھلے سال جولائی اور اگست کے دوران غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی اسرائیلی جنگ کے دوران فلسطینی مزاحمت کاروں نے الشجاعیہ، رفح اور دیگر مقامات پر دست بہ دست لڑائی میں متعدد اسرائیلی فوجی زخمی حالت میں یرغمال لیے تھے۔ اس کے بعد سے وہ فوجی حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کی تحویل میں ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
