’فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق الغد‘ ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ Â انہوں نے مصر کے ساتھ Â فلسطین کے مسئلے اور فلسطینی قوم کو درپیش مسائل پر کھل کربات کی ہے۔ حماس اور مصر کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔
ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے کہا کہ فلسطینی دھڑوں میں مفاہمت کے قیام میں مصراہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ فلسطینیوں کےمسائل کے حل میں قاہرہ کے کلیدی کردار کی بحالی کے خواہاں ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ابو مرزوق نے کہا کہ حماس اور مصری حکومت کے درمیان ملاقات کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا۔ آئندہ ایام میں حماس اور مصر کے درمیان رابطوں کو مزید وسعت دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ چند روز قبل دورہ قاہرہ کے دوران انہوں نے مصری حکام کے ساتھ کھل کر تمام امور پر بات کی تھی۔ حماس مصر کے ساتھ سرکاری اور عوامی سطح پر رابطے برقرار رکھنا چاہتی ہے۔
فلسطین نیشنل کونسل کے اجلاس میں حماس کی شرکت کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حماس صہیونی ریاست کے زیرسایہ کسی اجلاس میں شرکت کی حامی نہیں۔ ہم نے متعدد مرتبہ مطالبہ کیا ہے کہ تنظیم آزادی فلسطین سمیت تمام قومی اداروں کی تشکیل نو کی جائے۔
رفح گذرگاہ کے کھولے جانے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قاہرہ حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں رفح گذرگاہ کھولنے پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔
حماس کے سیاسی شعبے کے نائب صدر اسماعیل ھنیہ کی دوحہ سے واپسی میں تاخیر سے متعلق سوال کے جواب میں ڈاکٹر مرزوق نے کہا کہ جزیرہ سینا میں سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر ھنیہ کی غزہ واپسی میں تاخیر ہوئی ہے۔ حالات بہتر ہوتے ہی اسماعیل ھنیہ واپس غزہ لوٹ جائیں گے۔
فلسطین سے باہر نیشنل کونسل کا اجلاس قابل قبول
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے کہا کہ انہوں نے تحریک فتح کے رہنما عزام الاحمد کو بتا دیا ہے کہ ان کی جماعت مقبوضہ فلسطین میں نیشنل کونسل اجلاس کو قبول نہیں کرے گی۔ اگر اجلاس غرب اردن میں منعقد ہوتا ہے تو حماس اس میں شرکت نہیں کرے گی۔
ڈاکٹر مرزوق نے کہا کہ حماس فلسطین سے باہر نیشنل کونسل کے اجلاس کے انعقاد کی حامی ہے۔ اگر مصر کونسل کے اجلاس کی میزبانی کرے تو ان کی جماعت اس کا خیر مقدم کرے گی اور اجلاس میں شرکت بھی کرے گی۔
فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حماس رہنما نے کہا کہ مفاہمت کی تمام چابیاں صدر محمود عباس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ چاہیں تو قومی مفاہمت کا مرحلہ جلد طے ہوسکتا ہے۔
