اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں کے خلاف جاری مزاحمتی کاروائیوں کی بیرون فلسطین منصوبہ بندی کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیاہے کہ غرب اردن میں صہیونی فوج کی جارحیت کے خلاف فلسطینیوں کی مزاحمت کارروائیوں کی منصوبہ بندی بھی وہیں کی جاتی ہے۔ یہ الزام قطعی بے بنیاد ہے کہ حماس کی بیرون ملک بیٹھی قیادت فلسطین کے اندر ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیل کی جانب سےالزام عاید کیا گیا تھا کہ حماس کے بیرون ملک بیٹھے لوگ فلسطین کے اندر بالخصوص مغربی کنارے میں ہونے والی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ غرب اردن میں فوجیوں اور یہودی آباد کاورں پر حملوں کے پس پردہ حماس کے ان رہ نمائوں اور کارکنوں کا ہاتھ ہے جو اسرائیل کے ساتھ ڈیل کے تحت رہائی کے بعد ملک بدر کیے گئے ہیں۔
چند ہفتے قبل اسرائیلی خفیہ ادرے”شاباک” کے اہلکاروں نے حماس سے وابستہ ایک گروپ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ ایک یہودی آباد کار کےقتل اور تین کے زخمی کرنے میں ملوث ہے اور اس گروپ کی منصوبہ بندی باہر کی گئی اور ہدایات بھی باہر سے جاری کی جاتی رہی ہیں۔
تاہم حماس نے ان تمام الزامات کو قطعی بے بنیاد قراردیتے ہوئے حماس اور عرب ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
