مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق گذشتہ روز مصر کی ایک عدالت نے حماس کو دہشت گرد قرار دینے کےلیے دی گئی درخواست یہ کہہ کر خارج کردی تھی کہ عدالت اس نوعیت کے کیسز کو ڈیل کرنے اور ان پر فیصلے کرنے مجاز نہیں ہے اور یہ اور عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ درخواست گذار کی جانب سے حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
درایں اثناء غزہ میں حماس کے مرکزی رہ نما اسماعیل رضوان نے ترک خبر رساں ایجنسی "اناطولیہ” سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حماس مصری عدالت کے فیصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قاہرہ کی ایک عدالت جس میں فوری نوعیت کے کیسز کی سماعت کی جاتی ہے نے سوموار کے روز اپنے ایک فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اس کے پاس حماس کو دہشت گرد قرار دینے کا اختیار نہیں ہے۔
اسماعیل رضوان نے کہا کہ مصری عدالت کی جانب سے سامنے آنے والے فیصلے بعد یہ ثابت ہوگیا ہے کہ حماس کے خلاف مصری میڈیا میں جاری ٹرائل بے بنیاد ہے اور جماعت پر عاید الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصری عدالت ہی کا فیصلہ حماس کی بریت کے لیے کافی ہے۔ اس فیصلے کے بعد مصری میڈیا کو اپنا قبلہ درست کرلینا چاہیے۔
ڈاکٹر اسماعیل رضوان کا کہنا تھا کہ حماس مصر سمیت کسی بھی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کررہی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
