مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے ایک مرکزی رہنما اور جماعت کے رکن پارلیمنٹ یحیٰ موسیٰ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی جماعت فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے مذاکرات کا انتظار نہیں کرے گی بلکہ صہیونی ریاست کے خلاف فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے مسلح مزاحمت کی پالیسی پر عمل درآمد جاری رہے گا۔
حماس رہنما نے اسرائیلی اخبارات میں شائع ہونے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ حماس اسرائیل سے براہ راست مذاکرات کا ارادہ رکھتی ہے۔ یحیٰ موسی کا کہنا تھا کہ حماس فلسطینی عوام کو صہیونی مظالم کے چنگل سے نکالنے کے لیے مسلح جدو جہد پر یقین رکھتی ہے۔ حماس کو اسرائیل سے براہ راست مذاکرات کی کوئی فکر نہیں بلکہ ہم اپنی دفاعی صلاحیت کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاکہ صہیونی ریاست کے شیطانی تکبر و غرور کا سر نیچا کیا جا سکے۔
