مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حکومت کی مقرب خیال کی جانے والے عبرانی نیوز ویب پورٹل "وللا” نے لکھا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگ کے اختتام کے بعد وزیرِ اعظم نیتن یاھو نے ایک اعلیٰ سطحی حکومتی کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس تقریر میں انہوں نے جو کچھ کہا، بعینہ وہی کچھ وہ سنہ 2012ء میں ایک ہفتے تک غزہ کی پٹی پر جاری رہنے والی جنگ کے بعد ایک تقریر میں کہ چکے ہیں۔
اگست 2014ء اور 2012ء کی تقاریر کے درمیان صرف اتنا فرق تھا کہ پہلی تقریر کے دوران کانفرنس میں لوگ اور تھے اور دوسری اور حالیہ تقریر میں کانفرنس کے شرکاء مختلف تھے۔ ورنہ ان کے تمام کے تمام الفاظ وہی تھے جو وہ سنہ 2012ء میں کہہ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق وزیرِ اعظم نیتن یاھو نے سنہ 2012ء میں غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹ حملوں کے بارے میں جو گفتگو کی تھی حالیہ تقریر میں بھی ان کے وہی الفاظ تھے۔ وہ دو سال پہلے بھی یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ فوج نے کارروائی کر کے حماس کی کمر توڑ دی۔ غزہ کی پٹی میں مزاحمت کاروں کے راکٹوں کا ذخیرہ تباہ کر دیا گیا۔ وغیرہ وغیرہ۔ اب کی بار بھی نتین یاھو کی تقریر میں انہی باتوں کی گردان اور تکرار سنائی دی۔
مثلاً نیتن یاھو نے سنہ 2012ء کی جنگ کے بعد تقاریر میں بار بار کہا کہ ہم نے ہزاروں تخریب کاروں کو ہلاک کر دیا۔ حماس کو کاری ضرب لگا کر اسے بھاری قیمت چکائی گئی۔ حماس اب اسرائیل پر ایک راکٹ بھی داغنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ محض دو سال کے وقفے کے بعد آج غزہ کی پٹی ایک مرتبہ پھر میدان جنگ بنی تو دو سال پہلے کی نسبت حماس نے زیادہ طاقت، جوش اور جذبے کے ساتھ اسرائیل کا مقابلہ کیا۔ صہیونی فوج کے حماس کی کمر توڑنے کے بار بار کے دعوے محض جھوٹ اور قوم کے سامنے اپنی ساکھ بچانے کی کوشش ہیں۔
