حماس کا فلسطینی گھرانے کی شادی کی تقریب میں یہودی آبادکاروں کی شرکت کی مذمت۔
تفصیلات کے مطابق فلسطین میں غاصب اسرائیل کے ظلم و بربریت کے خلاف برسرپیکار اسلامی تحریک مزاحمت ‘حماس’ نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں دیر قدیس کے مقام پر ایک شادی کی تقریب میں یہودی آباد کاروں کی شرکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
حماس کے ترجمان عبدالرحمان شدید نے ایک بیان میں کہا کہ فلسطینی قوم کے ہاں اس طرح کی سرگرمیوں کا کوئی وجود نہیں۔ فلسطینی قوم غاصب صہیونیوں کے قبضے سے آزادی کی جدو جہد کر رہے ہیں۔ ایسے میں غاصب صہیونیوں کو خوشی کی تقریبات میں شریک کرنا قابل مذمت ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہودی مجرموں کے ساتھ مل کر خوشیاں منانا فلسطینی اتھارٹی کے دشمن کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کا نتیجہ اور عرب اور اسرائیل دوستی کی سازشوں کا شاخسانہ ہے۔ فلسطینی قوم کو اپنے شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے ان کے نقش قدم پر چلنا ہے، دشمن کو اپنی خوشی کی تقریبات میں شامل کرنے کا کوئی جواز نہیں۔
عبدالرحمان شدید نے فلسطینی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ شادی کی تقریب میں دشمن کی مجرمانہ شرکت کا نوٹس لیں اور دشمن کے ساتھ سماجی بائیکاٹ سمیت ہر سطح پر بائیکاٹ کیا جائے۔
