اسرائیلی فوج کے ایک سینیٕر عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت”حماس” اپنے 40 فی صد راکٹ غزہ کی پٹی اور فلسطین ہی میں تیار ہونے والی اشیاء سے تیار کرتی ہے۔ فوجی عہدیدار کا کہنا ہے کہ حماس نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے حملوں میں تباہ ہونے والی سرنگوں کی تعمیر اور بحالی کا کام دوبارہ شروع کر دیا ہے۔
عبرانی نیوز ویب پورٹل”وللا” نے فوجی جنرل کے عہدے کے ایک اہلکار کا بیان نقل کیا ہے تاہم اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ صہیونی جنرل کا کہنا ہے کہ حماس اپنے 40 فی صد راکٹ دیسی سامان سے تیار کرتی ہے۔
عبرانی نیوز ویب پورٹل”وللا” نے فوجی جنرل کے عہدے کے ایک اہلکار کا بیان نقل کیا ہے تاہم اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ صہیونی جنرل کا کہنا ہے کہ حماس اپنے 40 فی صد راکٹ دیسی سامان سے تیار کرتی ہے۔
صہیونی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت ابھی تک یہ سمجھ نہیں پائی کہ وہ حماس کے ساتھ کس طرح ڈیل کرے۔ اسرائیل کو حماس کے ساتھ قاہرہ کے توسط سے مذاکرات بھی کرنا ہیں لیکن ان مذاکرات کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے۔ اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکا ہے۔
ویب پورٹل نے اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے سیاسی شعبے کے نائب صدر اسماعیل ھنیہ کے گذشتہ جمعہ کے خطبہ کا بھی حوالہ دیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے ساتھ جنگ آخری معرکہ نہیں تھا بلکہ صہیونی ریاست کی تباہی کے لیے جنگوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
