یورپی یونین نے اسرائیل کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس کے علاقوں میں غیرقانونی یہودی کالونیوں کی تعمیر کا عمل جاری رکھا تو وہ ان کالونیوں میں تیار ہونے والے دودھ اور چکن کی درآمد پر مکمل طور پر پابندی عائد کردیں گے۔
اسرائیلی اخبار "معاریف۔۔۔۔ ہشبوع” نے اپنی منگل کی اشاعت میں لکھا ہے کہ یورپی یونین نے صہیونی حکومت کو چند ہفتوں کی مہلت دی ہے اور کہا ہے کہ وہ جلد از جلد یہودی کالونیوں میں تیار ہونے والی مصنوعات اور اسرائیل میں بنائی جانے والی مصنوعات کو علاحدہ علاحدہ کرے ورنہ اس کی دیگر مصنوعات کا بھی بائیکاٹ کیا جاسکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق بیس اگست کو یورپی یونین کے ہائی کمشین کی جانب سے اسرائیلی وزارت زراعت و لائیو اسٹاک کو ایک مراسلہ ارسال کیا گیا ہے جس میں اسرائیلی حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ یہودی کالونیوں میں تیار ہونے والی مصنوعات کو الگ الگ کریں ورنہ سنہ 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے علاقوں میں تیار ہونے والے زندہ چکن کی درآمد پر پابندی عائد کردی جائے گی۔
اخبار لکھتا ہے کہ اسرائیلی محکمہ زراعت نے یورپی یونین کی دھمکی کو سنجیدگی سے لیا ہے اور متعلقہ حکام نے یورپ کی جانب سے پورے اسرائیل کی مصنوعات کے بائیکاٹ سے بچنے کے لیے یہودی کالونیوں میں تیار ہونے والی مصنوعات کو الگ الگ کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے یورپی یونین نے سنہ 1967ء کے علاقوں میں تیار ہونے والی اسرائیلی مصنوعات کے کلی طور پر بائیکات کا اعلان کیا تھا۔ یورپی ملکوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے سنہ 1967ء کی جنگ میں جن فلسطینی علاقوں پر قبضہ کیا ہے وہ ناجائز ہے اور وہاں پر تیار ہونے والی مصنوعات کو یورپی منڈی تک لے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
