خیال رہے کہ فرانسیسی جریدے نے کل بدھ کی اشاعت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ایک بار پھر گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی جسارت کی ہے جس کے بعد پوری اسلامی دنیا میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ اسی اخبار کے پیریس میں قائم دفتر پر پچھلے دنوں مسلح افراد کے حملے میں سترہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے رہ نما عزت الرشق نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پیریس میں مسلمان اور عرب رہ نمائوں کی موجودگی میں ھادی بشر صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں پر مبنی تصاویری پوسٹر اٹھانے اور چارلی ہیبڈو کے سرورق پرپیغمبر اسلام کے خاکے شائع کرنے کا اقدام فرانس سے ہمدردی کرنے والوں کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیریس کے امن ملین مارچ میں سب سے زیادہ فائدہ گستاخ اخبار کے مالکان کو ہی ہوا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ اس اخبار نے متعدد مرتبہ پیغمبر اسلام کی کھلی توہین کرتے ہوئے مشاعر اسلام کا بھی مذاق اڑایا تھا۔
فرانسیسی جریدے نے ہمدردی کرنے والوں کے جذبات سے ناجائز فایدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کی ایک بار پھرتوہین کی ناپاکک کوشش کرکے مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نبی پاک علیہ السلام کی شان میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت تمام آسمانی مذاہب کی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔ یہ ایک نسل پرستانہ اور قابل نفرت اقدام ہے جس کا آزادی اظہار رائے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
