مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ "جعلی عرب باشندوں” پرمشتمل اسرائیلی فوج کی خصوصی یونٹ کے اہلکاروں نے طولکرم میں حماس رہ نما اسلام بولی ریاض بدیر کو اس وقت حراست میں لیا جب وہ جامع مسجد طولکرم سے نماز عصر کی ادائی کے بعد گھر لوٹ رہے تھے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی اہلکار فلسطینی نمبرپلیٹ کی ایک پرائیویٹ کار پرسوار تھے۔ انہوں نے کار اچانک ریاض بدیر کے مکان کے سامنے اس وقت آن کھڑی کی جب وہ گھرمیں داخل ہونے والے تھے۔ کار میں سوارصہیونی فوجیوں نے تیزی سے نیچے اترکراٹھائیس سالہ ریاض بدیر کو پکڑ کر گاڑی میں جبرا داخل کر دیا اور تیزی سے نامعلوم سمت مین فرار ہو گئے۔
خیال رہے کہ ریاض بدیر پیشے کے اعتبار سے انجینیئر ہیں۔ وہ اس سے قبل بھی کئی بار اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی اداروں کے ہاتھوں گرفتار ہوتے رہے ہیں۔ انہیں فلسطینی اتھارٹی کی جیل سے حال ہی میں 20 جون کو رہا کیا گیا تھا۔
