مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق پریس کو جاری ایک بیان میں ابو مرزوق نے کہا کہ حماس نے مصری حکومت اور اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے نگران رابطہ کر کے سیناء میں فوجیوں پر حملے کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور فوجیوں پر خونی حملے کی مذمت کی ہے۔ ہمیں مصر کے کسی عہدیدار نے نہیں کہا کہ حماس ان واقعات میں ملوث ہے۔ حماس اس واقعے کو ایک مجرمانہ دہشت گردی کی کارروائی سمجھتی ہے اور اس کی سخت مذمت کرتی ہے۔
حماس رہنما کا کہنا تھا کہ ہم اندھے اور بہرے نہیں کہ ہمیں جزیرہ نما سیناء میں امن و امان کے فوائد و نقصانات کا علم نہیں ہے۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ جزیرہ سیناء میں کسی بھی گڑ بڑ کے سب سے زیادہ منفی اثرات اہل غزہ پر پڑتے ہیں۔ جزیرے میں کوئی بھی ناخوش گوار واقعہ پیش آتا ہے تو غزہ کی مصرکے ساتھ رابطے کی گذرگاہ فورا بند ہو جاتی ہے۔ اس لئے جزیرہ سینا میں امن امان کا قیام فلسطینیوں کے مفاد میں ہے۔
ڈاکٹر ابو مرزوق کا کہنا تھا کہ مصری فوجیوں کی ہلاکت پر حماس نے مصری حکومت کے ساتھ دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ یہ ایک بدترین دہشت گردی کی کارروائی تھی۔ ایسا المناک واقعہ کسی بھی مسلمان اور عرب ملک میں پیش آئے تو حماس اس کی مذمت کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرمصری حکومت کے پاس غزہ کے کسی شہری کے جزیرہ سینا کے واقعے میں ملوث ہونے کا ثبوت موجود ہے تو وہ ہمیں فراہم کرے ہم مصری حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔ فلسطین کی موجودہ حکومت نے مصر سے متصل سرحد پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کر رکھے ہیں اور کوئی شخص غزہ سے مصر میں داخل نہیں ہو سکتا ہے۔
ابو مرزوق نے بتایا کہ مصری حکومت کی جانب سے فلسطینی مذاکراتی وفد کو بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات جو رواں ماہ کے آخر میں ہونا تھے اب اگلے ماہ ہوں گے۔ یہ فیصلہ رفح گذرگاہ کی غیر معینہ مدت کے لیے بند کیے جانے کے حوالے سے کیا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
