فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حماس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر مصری حکام نے غزہ کی سرحد بند نہ کی ہوتی تو فلسطینی شہری سرنگوں کے راستے اشیائے ضروریہ کے حصول جیسے جان لیوا راستے کی طرف جانے پر مجبور نہ ہوتے۔ مصر نے رفح گذرگاہ بند کر رکھی ہے جس کے نتیجے میں غزہ کے عوام بنیادی ضرویات کے حصول کے لیے سرنگوں جیسے مشکل راستے پر چلنا پڑتا ہے۔
خیال رہے کہ دو روز قبل غزہ کی پٹی اور مصر کی سرحد پر بنی ایک سرنگ سے چار فلسطینیوں کی لاشیں نکالی گئی تھیں۔ ان شہداء کی شناخت سامی راغب الطویل، محمد علی بدوی، علی حسن بدوی اور عماد رافت بدوی کے ناموں سے کی گئی ہے۔ یہ چاروں فلسطینی آپس میں رشتہ دار بھی تھے۔ وہ سرنگ کے راستے Â مصر سے بنیادی ضرورت کی اشیاء کے حصول کے لیے سرنگ کا استعمال کرنا چاہتے تھے مصر کی جانب سے سرحد پر چھوڑے گئے پانی سے سرنگ بیٹھ گئی اور اس میں موجود چاروں شہری جام شہادت نوش کرگئے۔
