مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی حکام نے قبلہ اول پراپنی بالادستی نافذ کرنے کے لیے ہرطرح کے ہتھکنڈوں کابھرپور استعمال شروع کیا ہے۔ یہودی آباد کاروں کو قبلہ اول پر یلغار کرنے کے لیے ہرطرح کی سہولتیں دی گئی ہیں اور اسرائیل کے سیکیورٹی ادارے یہودی آباد کاروں کو قبلہ اول میں داخلے کے دوران فول پروف سیکیورٹی مہیا کرتے ہیں۔ یہودی آباد کار روزانہ کی بنیاد پر قبلہ اول میں داخل ہوتے اور مقدس مقام کی بے حرمتی کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ اس وقت عرب ممالک کو اندرونی خلفشاروں کا بھی سامنا ہے اور وہ اپنے اندرونی معاملات میں الجھ کر رہ گئے ہیں تاہم قبلہ اول کے دفاع کے لیے اس کے سوا اور کوئی چارہ باقی نہیں بچا کہ عرب ممالک مل کر اس کا تحفظ کریں اور کوئی متفقہ لائحہ عمل مرتب کریں۔
حماس کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ ہی ’’تنازع فلسطین‘‘ کی بنیاد ہے۔ اگر اسے درمیان سے نکال دیا جائے تو اسرائیل کے خلاف ہماری جدود جہد بے معنی ہوجاتی ہے۔ اس لیے ناگزیر ہے کہ فلسطینی مزاحمتی اور سیاسی تنظیموں کے ساتھ ساتھ عالم عرب کی سطح پر بھی قبلہ اول کے دفاع کے لیے کوئی موثر اور نتیجہ خیز لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں فلسطینی ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اپریل میں 1300 یہودی آباد کاروں نے قبلہ اول پر یلغار کی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
