فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی” سے گفتگو کرتے ہوئے خالد مشعل نے فلسطین۔ اسرائیل کے درمیان مزید 72 گھنٹے کی عارضی جنگ بندے سے کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گوکہ بہتر گھنٹے کی جنگ بندی کوئی زیادہ موثر ثابت نہیں ہوگی تاہم اس کے نتیجے میں فریقین بات چیت کے عمل کو آگے بڑھائیں گے اور ساتھ ہی جنگ بندی سے غزہ میں امدادی کارروائیوں میں بھی مدد ملے گی۔ نیز بیرون ملک سے غزہ کے لیے امدادی سامان لے کر آنے والے قافلوں کو منزل مقصود تک پہنچایا جاسکے گا۔
ایک سوال کے جواب میں حماس رہ نما نے کہا کہ مصر میں جاری جنگ بندی بات چیت میں ہمارا صرف یہی ایک اہم ترین مطالبہ ہے کہ غزہ کی پٹی کا محاصرہ مکمل طور پر ختم کرکے اہالیان غزہ کو مکمل آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔
