فلسطینی اتھارٹی کے ایک بند کمرہ اجلاس میں صدر محمود عباس نے اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے خلاف سخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے اپنی جماعت اور اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ مغربی کنارے میں حماس کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے جماعت پر دباو ڈالیں۔
فلسطینی اتھارٹی کے ایک سرکردہ عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ پیر کے روز تحریک الفتح اور فلسطینی سیکیورٹی اداروں کا ایک مشترکہ اجلاس ہوا جس کی صدارت محمود عباس نے کی۔ انہوں نے مغربی کنارے میں حماس کی بڑھتی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں پر کڑی نکتہ چینی کی اور حماس پر دباو بڑھانے کی ہدایت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں صدر محمود عباس کی حمایت میں کئی دوسرے رہ نماوں نے بھی آواز بلند کی۔ ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے اجلاس بلایا ہی حماس کے خلاف دباو بڑھانے پر غور کے لیے ہے۔ کیونکہ صدر محمود عباس کا رویہ اس قدر جارحانہ تھا جیسے سنہ 2007ء میں غزہ کی پٹی سے الفتح کی قیادت کے فرار کے وقت دیکھا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ ابو مازن نے سیکیورٹی اداروں اور اپنی پارٹی کے قائدین سے کہا کہ حماس کے ساتھ قومی مفاہمت زیادہ دیر چلنے والی نہیں ہے۔ اس لیے مغربی کنارے کے علاقوں میں حماس کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جائے اور اس پر مسلسل دباو ڈالا جائے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے اجلاس کے بعد امکان ہے کہ مغربی کنارے میں عباس ملیشیا حماس کے خلاف ایک نیا کریک ڈاون شروع کرے کیونکہ صدر کے احکامات سے لگ رہا تھا کہ حماس کے خلاف ایک بڑی مہم شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس موقع پر فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ نے اپنی پارٹی کے بعض رہ نماوں کی مسلسل حماس کی قیادت سے ملاقاتوں پر بھی اعتراض کیا اور حکم دیا کہ تحریک الفتح کی قیادت حماس رہ نماوں سے فاصلے رکھے۔
