مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ’’یوم اسیران‘‘ کے حوالے سے غزہ میں منعقدہ ایک عظیم الشان جلسے سے اپنے ایک ریکارڈڈ بیان میں خالد مشعل کا کہنا تھا کہ ’’میں یہی کہتا ہوں اور سب کو اس بات کا اطمینان دلاتا ہوں کہ ہم اس وقت تک اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کےتبادلے کا کوئی معاہدہ یا ڈیل نہیں کریں گے جب تک اسرائیل پہلے سے طے پائے معاہدوں پر سختی سے عمل درآمد نہیں کرتا ہے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی اسیران کی رہائی کا معاملہ کسی ایک جماعت یا گروپ کا نہیں بلکہ یہ پوری فلسطینی قوم کا اجتماعی معاملہ ہے۔ میں قوم کو خوش خبری سناتا ہوں کہ صہیونی جیلوں میں پابند سلاسل تمام فلسطینی جلد رہا ہوں گے اور آزادی کی فضاء میں سانس لیں گے۔ خالد مشعل کا کہنا تھا کہ دشمن فلسطینی تحریک مزاحمت کو مشتعل کرنے کے اقدامات کررہا ہے مگر ہمیں مشتعل نہیں ہوں گے۔ ہم دشمن کے ساتھ قیدیوں کےتبادلے کے حوالے سے بات چیت بھی کریں گے۔ ایسی تسلی بخش بات چیت اور نتیجہ خیز مذاکرات کیے جائیں گے جن کے نتیجے میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو ممکن بنایا جا سکے گا۔
خالد مشعل نے فلسطینی اسیران کو مخاطب کرتےہوئے کہا کہ ’’ہم تمہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ آپ کو اسرائیلی جیلوں سے نکالنے کی اس وقت تک کوششیں کرتے رہے ہیں جب تک آپ رہائی کے بعد اپنے گھروں کو نہیں پہنچ جاتے۔ تمام اسیران کی صہیونی قید سے رہائی حماس کی اولین ترجیح ہے‘‘۔
انہوں نے فلسطین کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور عسکری تنظیموں پر بھی زور دیا کہ وہ فلسطینی اسیران کی رہائی کے کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔
حماس رہ نما نے سنہ 2011 ء میں اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے’’وفاء اسیران‘‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فلسطینی مزاحمتی تنظیموں اور حماس کی مذاکراتی صلاحیت ہے کہ اس نے دشمن کے ایک قیدی کے بدلے میں فلسطین کے 1050 قیدیوں کو آزاد کرایا تھا۔ ہم ایک بار پھر اس طرح کی ڈٰیل کے بارے میں غور کریں گے۔
خیال رہے کہ کل سترہ اپریل کو فلسطین بھرمیں یوم اسیران منایا گیا۔ فلسطینی یوم اسیران کے موقع پر بتایا گیا کہ اسرائیل کی جیلوں میں 6500 فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔ جن میں 24 خواتین، 230 بچے اور 13 ارکان پارلیمنٹ شامل ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
