(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ )قابض اسرائیلی فوج کے مظالم کے خلاف بر سرپیکار فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ نے اسرائیل کو قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت کے لیے پیش کش کردی۔انکا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کسی تیسرے ملک کے ذریعے اس معاملے پر بات چیت ہو سکتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق فلسطینی علاقے دیر البلح میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ ان کی جماعت قیدیوں کے تبادلے پر اسرائیل کےساتھ کسی تیسرے ملک کے ذریعے بات چیت کرسکتی ہے۔انکا کہنا تھا کہ حماس اسرائیل کےساتھ قیدیوں کےتبادلے کےلیے بالواسطہ اور مشروط مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
تقریب سے خطاب کے دوران ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی اسیر حوصلہ رکھیں ،حماس انکو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی۔ہم دشمن کے قیدیوں کو کسی خزانے کی طرح استعمال کریں گے اور اس کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو ممکن بنائیں گے۔جس دن اسرائیل نے ہماری قیدی رہا کیے ہم اسی دن اسرائیلی قیدیوں کو بھی رہا کردیں گے۔
علاقائی صورت حال پربات کرتے ہوئے اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ ہم تعلقات کی تزویراتی پالیسی میں توازن کے ساتھ آگے بڑھنے کے قائل ہیں تاکہ خطے میں صہیونی۔ امریکی سیاسی گٹھ جوڑ کو توڑا جا سکے۔
