اسلامی تحریک مزاحمت”حماس” کے سینیر نائب صدر ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے مخلوط قومی حکومت کے سربراہ رامی الحمد اللہ کے اس بیان کی تعریف کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں سابقہ حکومت کے ملازمین کی تنخواہیں رواں ماہ اکتوبر کے آخر تک ادا کر دی جائیں گی۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اپنے ایک بیان میں ابو مرزوق نے کہا کہ وزیراعظم الحمد اللہ کی جانب سے غزہ میں حماس کی سابق حکومت سے وابستہ رہنے والے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کا اعلان درست سمت میں ایک صحیح فیصلہ ہے۔ اس پر عمل درآمد بھی ہونا چاہیے۔
خیال رہے کہ دو روز قبل فلسطینی وزیراعظم رامی الحمد اللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سنہ 2007ء کے بعد غزہ کی پٹی میں حماس کی زیرقیادت قائم حکومت کے ساتھ کام کرنے والے ملازمین کو ان کی تنخواہیں قسط وار ملنا شروع ہو جائیں گی اور تنخواہوں کی ادائیگی کا سلسلہ اکتوبر کے آخر سے پہلے ہو جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ غزہ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے حوالے سے خلیجی ریاست قطر اور اقوام متحدہ سے معاملات طے پا گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائی کے حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو معاملے کے قانونی اور انتظامی پہلو سے جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات سے حکومت کو آگاہ کرے گی۔
وزیراعظم کے اس اعلان کے رد عمل میں حماس کے لیڈر موسیٰ ابو مرزوق کا کہنا تھا کہ وزیراعظم الحمد اللہ نے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کی منظوری سے ہی یہ اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کا مطالبہ حماس کا اپنے مفاد میں نہیں بلکہ قوم کے مفاد میں ہے۔ جو لوگ حکومت میں کسی نہ کسی شکل میں خدمات انجام دیتے رہےہیں وہ حق الخدمت کے سزاوار ہیں۔ انہیں ان کا حق ملنا چاہیے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
