مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مغربی کنارے میں حماس کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ عباس ملیشیا کی انٹیلی جنس فورس کے اہلکاروں نے ہفتے کے روز بیت لحم میں چھاپے کے دوران سابق اسیر ابراہیم خلیل دیریہ اور احمد حماد کو حراست میں لے لیا۔ ابراہیم دیریہ 16 سال تک اسرائیلی جیلوں میں قید رہ چکے ہیں۔
الخلیل شہر میں تلاشی کی کارروائی میں عباس ملیشیا کے اہلکاروں نے سابق اسیر حسام ابو راس کو اس کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا جبکہ اسی علاقے میں علاء ابربوش کے گھر پراس کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا گیا تاہم وہ گھر پر موجود نہ ہونے کے باعث گرفتار نہیں ہو سکے۔
الخلیل میں جامعہ الخلیل کے ایک طالب علم لیث عصافرہ کو بھی اس کے گھر سے حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ ایک طالب علم محمد عصفور کو ایک ماہ میں دوسری مرتبہ سیکیورٹی مراکز میں طلب کیا گیا ہے۔
ادھر رام اللہ میں عباس ملیشیا نے غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جامعہ بیرزیت کے طالب علم محمد حشابکہ کو حراست میں لے لیا۔ حشابکہ اس سے قبل بھی عباس ملیشیا کی جیلوں میں 14 دن قید رہ چکا ہے۔ عناس ملیشیا کے اہلکاروں نے مغربی کنارے سے حماس کے پانچ ارکان کو فوری طور پر سیکیورٹی مراکز میں پیش ہونے کی ہدایات بھی کی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
