مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے ترجمان ڈاکٹر سامی ابو زھری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ قومی عبوری حکومت کو سیاسی دھوکہ دہی اور چال بازی سے کام لینے کے بجائے عملا فلسطینی قوم کو ریلیف فراہم کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات قومی حکومت کے ترجمان ڈاکٹر ایھاب بسیسو کےاس بیان کے رد عمل میں کہی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عبوری حکومت کچھ عارضی طورپر غزہ کی پٹی میں منتقل ہو رہی ہے تاکہ یہاں سے براہ راست حکومتی انتظامات چلائے جاسکیں۔
اس کے رد عمل میں حماس کے ترجمان نے کہا کہ عوام محض حکومتی وزیروں کے دوروں کے حامی نہیں ہیں۔ قومی حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنا چاہتی ہے تو اسے عملی اقدمات کرنا ہوں گے۔ محض کھوکھلے نعروں سے کام نہیں بنتا۔ اب تک قومی حکومت کی طرف سے غزہ کی پٹی کے عوام کے ساتھ دھوکہ ہی کیا جاتا رہا ہے اورانہیں گمراہ کیا جاتا رہا ہے۔ آج تک غزہ کی پٹی کے عوام کی مشکلات کا حل نہیں نکالا جاسکا ہے۔ غزہ کی پٹی کے عوام کے زخموں سے چور چور ہیں اور قومی حکومت کو ان پرمرہم رکھنے کی فرصت نہیں ملی۔
ڈاکٹر ابو زھری نے کہا کہ فلسطینی حکومت کی طرف غزہ کی پٹی کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں دانستہ کوتاہی کا مظاہرہ کیا گیا۔ اب بھی وقت ہے غزہ کی پٹی میں قائم وزارتوں کوبااختیار بنایا جائے اور انہیں عوام کی خدمت کے لیے وسائل مہیا کیے جائیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز قومی حکومت کے ترجمان نے کہا تھا کہ وزیراعظم رامی الحمد اللہ اور ان کی کابینہ عارضی طورپر غزہ کی پٹی میں منتقل ہو رہے ہیں تاکہ غزہ سے براہ راست حکومتی انتظامات چلائے جاسکیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
