فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں عباس ملیشیا کے اہلکاروں نےتلاشی کی کارروائیوں کے دوران اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے کم سے کم چھ کارکنوں کو حراست میں لے کر تفتیشی مراکز منتقل کردیا ہے۔
دوسری جانب حماس نے کارکنوں کی گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی سیاسی کریک ڈائون قرار دیا ہے۔ عباس ملیشیا کے اہلکاروں نے حماس کے تین رہ نمائوں کو خود کو حکام کے حوالے کرنے کے نوٹس جاری کیے ہیں۔
حراست میں لیے جانے والے حماس کے کارکنوں میں یونیورسٹی کے طلباء بھی شامل ہیں۔ ان میں سابق اسیرسامی طلب الشوارہ شامل ہیں۔ الشوارہ نے اسرائیل کی جیلوں میں دس سال تک قید رہ چکے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
