(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) اسرائیل کے انتہا پسند وزیر خزانہ، بتسلئيل سموترش، نے اعلان کیا ہے کہ وہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی کابینہ سے مطالبہ کریں گے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق منصوبے کو اپنائے۔
صیہونی ریاست کی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں اپنی پارلیمانی جماعت کے اجلاس کے دوران انہوں نے کہا کہ "اسرائیل ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکا ہے، یا تو حماس ہتھیار ڈالے یا اسرائیل۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی حکومت کو غزہ میں جاری محاذ آرائی کو ختم کرنے کے لیے حتمی فیصلے لینے ہوں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ غیر قانونی صیہونی حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ وہ حماس کو ایک آخری انتباہ جاری کرے، جس میں تین بنیادی شرائط شامل ہوں، غزہ میں تمام صیہونی قیدیوں کی فوری رہائی٫ حماس کی قیادت کا غزہ چھوڑ کر دیگر ممالک منتقل ہونا، فلسطینی مزاحمتی گروپوں کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا۔
انھوں نے دھمکی دی کہ اگر حماس ان مطالبات پر عمل نہیں کرتی، تو غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل غیر معمولی جارحانہ اقدامات کرے گی، جن میں غزہ کے اندر بڑے پیمانے پر فوجی آپریشنز میں توسیع، مکمل محاصرہ نافذ کرنا، اور پانی، بجلی، اور ایندھن کی تمام سپلائی بند کرنا شامل ہوگا۔
سموترش نے ایک جامع منصوبہ بھی پیش کیا، جسے وہ کابینہ کے اجلاس میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس منصوبے میں غزہ پر مکمل فوجی قبضہ، حکومتی ڈھانچے کو تباہ کرنا، اور شہریوں پر مکمل محاصرہ نافذ کرنا شامل ہے، جس کے تحت تمام انسانی امداد اور بنیادی خدمات بند کر دی جائیں گی۔
اس منصوبے میں فلسطینی آبادی کو جبراً غزہ کے جنوب مغربی ساحلی علاقے المواصی میں منتقل کرنے کا بھی ذکر ہے، تاکہ انہیں فلسطین سے بے دخل کر کے دوسرے ممالک ہجرت پر مجبور کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، شمالی غزہ میں ایک فوجی زون قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جو صیہونی بستیوں کے قریب کے علاقوں پر مزید قبضے کو یقینی بنائے گا۔
یہ بیان کسی بھی صیہونی حکومتی عہدیدار کی جانب سے اب تک کا سب سے انتہا پسندانہ بیان سمجھا جا رہا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ قابض صیہونی ریاست کے اندر دائیں بازو کے شدت پسند عناصر غزہ کے خلاف یکطرفہ فیصلے مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، بغیر اس بات کی پرواہ کیے کہ عالمی برادری کا مؤقف کیا ہے۔
