مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ’’الجزیرہ‘‘ ٹی وی کودیے گئے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر الزھار کا کہنا تھا کہ میں سعودی عرب سے پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ’’معاہدہ مکہ دوم‘‘ کے لیے فریم ورک تیار کرے اور مفاہمتی معاہدے کی شرائط پرعمل درآمد کے لیے عرب ممالک پر مشتمل ایک نگران کمیٹی قائم کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح سعودی عرب کے مرحوم فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے دور میں ’’حماس‘‘ اور تحریک فتح کے درمیان مکہ مکرمہ میں معاہدہ طے پایا تھا۔ اسی طرح اب موجودہ فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز بھی فلسطینیوں کے درمیان مکہ مکرمہ میں صلح کا معاہدہ کرائیں۔
ڈاکٹر الزھار نے کہا کہ حماس ’’معاہدہ مکہ 2 ‘‘ کی تمام شرائط اور نکات پرعمل درآمد کی پا بند ہوگی لیکن اس کے لیے فریق ثانی کو بھی تمام شرائط کی پابندی کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی دھڑوں کے درمیان مفاہمت وقت کا تقاضا ہے اور عالمی برادری کی جانب سے فلسطین میں مفاہمت کی کسی بھی کوشش کا خیر مقدم کیا جائے گا۔
ڈاکٹر الزھار نے الزام عاید کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس قومی مفاہمت کے عمل میں تعطل کے ذمہ داری ہیں۔ غزہ کی پٹی کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے معاملے پرفلسطینی اتھارٹی کی لاپرواہی پر عالمی برادری بالخصوص یورپی یونین بھی پریشان ہے۔ یورپی ملکوں کی طرف سے بھی غزہ کی پٹی کے سابقہ حکومت کےدور میں بھرتی ہونے والے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔
قبل ازیں حماس کے مرکزی رہ نما اسماعیل ھنیہ نے بھی سعودی عرب سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت کے لیے اپنی مصالحانہ خدمات دوبارہ شروع کرے۔
یاد رہے کہ حماس اور تحریک فتح کے درمیان 08 فروری 2007 ء کو سابق سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ مرحوم کے دور میں مکہ مکرمہ میں ایک مصالحتی معاہدہ طے پایا تھا تاہم بہ وجوہ اس پرعمل درآمد نہیں کیا جاسکا۔ حماس اور فتح کے درمیان سمجھوتے کو’’میثاق مکہ‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
