خیال رہے کہ اسرائیل کے سابق آرمی چیف جنرل بینی گانٹز نے اپنے ایک بیان میں دھمکی آمیز لہجے میں کہا ہے کہ فوج کو فلسطین اور لبنان میں موجود تمام مساجد اور اسکولوں کوبمباری سے تباہ کردینا چاہیے۔ نیز بغیر کسی رعایت کے عام فلسطینیوں اور لبنانیوں کا قتل عام ہونا چاہیے۔ مسٹر گانٹز نےاعتراف کیا کہ پچھلے سال غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگ کےدوران میں نے ذاتی طورپر شہر کےوسط میں الوفاء اسپتال پر بمباری کا حکم دیا تھا۔
حماس کی جانب سے سابق صہیونی آرمی چیف کے بیان پر شدید ردعمل ظاہر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جنرل گانٹز نے خود ہی اعتراف کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں نہتے شہریوں پر بمباری کا حکم دے کر جنگی جرائم کے مرتکب ہوچکے ہیں۔
حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے کہا کہ سابق اسرائیلی آرمی چیف نے بزدلانہ اور دھمکی آمیز بیان میں اپنی اصلیت خود ہی بتا دی ہے۔ اس بیان سے یہ ظاہر ہوگیا ہے کہ وہ فلسطینیوں اور خطے کی دیگر اقوام کے بارے میں کس طرح کے مکروہ اور مذموم عزائم رکھتے ہیں۔
ترجمان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ سابق صہیونی آرمی چیف کے دھمکی آمیز بیان کا نوٹس لے اور ان کے خلاف جنگی جرائم کے ارتکاب کی فوجی عدالتوں میں تحقیقات کرائے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ غزہ کی پٹی میں نہتے فلسطینیوں کا خون بہانے میں کون کون براہ راست ملوث ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
