ایک بیان میں حماس نے امید ظاہر کی کہ مراکشی حکومت اور فرمانروا، سابق اسرائیلی صدر کے دورہ مراکش پر ضرور غور کریں گے۔
بیان میں تمام عرب ریاستوں کو مخاطب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اسرائیل سے تعلقات بحالی کی تمام کوششوں کو مسترد کیا جائے۔
حماس نے مزید کہا کہ اسرائیلی صدر کے دورہ مراکش کے ذریعے صہیونی دنیا کے سامنے اس کی ساکھ کو بہتر بنانا مقصود ہے، جس کے بعد خود ساختہ یہودی ریاست کے ساتھ خطرناک تعلقات بحالی کا نیا باب کھلنے کا اندیشہ ہے.
یاد رہے کہ شمعون پیریز نے 23 جولائی 1986ء میں اسرائیلی وزیر اعظم کے طور پر مراکش کا دورہ کیا تھا.
پیریز دورہ مراکش کے موقع پر سابق امریکی صدر کے مشرق وسطی اور افریقا کے بارے میں پانچ سے سات مئی کے دوران ہونے والی عالمی کانفرنس میں شرکت کریں گے. یہ کانفرنس مراکش کے وسطی شہر مراقش میں ہو گی.
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
