مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ کی پٹی میں جنگ میں شہید ہونے والوں کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ فلسطینی مجاھدین اور پوری قوم غزہ جنگ میں دشمن پر عسکری، سیاسی ، اخلاقی اور ابلاغی سطح پر دشمن پر فاتح رہی ہے۔ دشمن کو ہر اعتبار سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اب فلسطینیوں کی طاقت کو دوستوں سے پہلے دشمنوں نے تسلیم کیا ہے۔
اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ غزہ جنگ میں فلسطینی قوم نے تین اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ اول یہ کہ انہوں نے ڈٹ کر صہیونی دشمن کی جارحیت کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ دوسرا اسرائیلی فوج کی قیامت خیز بمباری اور اسکے نتیجے میں ہونے والے بے پناہ جانی ومالی نقصان پر صبر برداشت کا مظاہرہ کیا اور تیسری فتح سیاسی میدان میں ہوئی، جہاں دشمن کو ہماری شرائط کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پوری دنیا کا میڈیا بھی غزہ کی پٹی پر اکاون دک تک جاری رہنے والی لڑائی کو فلسطینیوں کی فتح اور اسرائیل کی شرمناک شکست سے تعبیر کررہا ہے۔ میڈیا جو کچھ کہہ رہا ہے وہ زیادہ درست اور حقائق پر مبنی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ جنگ کے بعد اسرائیل کی حکمراںقیادت سے صہیونیوں کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔ صہیونی حکومت اندرونی سطح پر اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے جنگ میں کامیابی کے جھوٹے دعوے کررہی ہے۔ فلسطینیوں کی تحریک مزاحمت اس جنگ کے نتیجے میں کمزور نہیں ہوئی بلکہ مزید مضبوط ہوئی ہے۔
