داخلی بحران میں بشار کے ساتھ اختلافات میں نہیں پڑنا چاہئے تھا،حماس

0
SHARES
1
VIEWS

(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ ) مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی مظالم کے خلاف برسرپیکار مزاحمتی تنظیم "حماس” کے سیاسی شعبے کےاہم رکن محمود الزھار کا کہنا ہے کہ حماس کے شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے ساتھ تعلقات ملکی داخلی بحران میں شامل ہوکربرباد ہوگئے ہیں تاہم بحالی کے لیے کوششیں کی گئیں اوریہ  سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

محمود الزھار نے شامی صدر بشار الاسد کی تعریفیں کرتے ہوئے کہا کہ "شامی صدر نے فلسطینیوں کےلئے اپنے ملک کےدروازے کھول دیے تھے، ہم شام میں اس طرح  نقل و حرکت کرتے تھے گویا کہ فلسطین میں ہوں اور پھر اچانک شام کے بحران کے پس منظر میں یہ تعلق برباد ہو گیا۔

انکا کہنا تھا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیں شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے تھی داخلی بحران میں بشار کے ساتھ اختلافات میں نہیں پڑنا چاہئے تھا۔

انھوں نے واضح کیا کہ "یہ بات حماس کے مفاد میں ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مخالفت ررکھنے والے تمام ممالک کے ساتھ تنظیم کے اچھے تعلقات ہوں، اس حوالے سے شام، لبنان اور ایران کا واضح موقف ہمارے سامنے ہے”۔

محمود الزھار کے مطابق شام نے نہ صرف حماس بلکہ تمام فلسطینی تنظیموں کے لیے اپنے دروازے کھول رکھے تھے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم پر لازم ہے کہ حق اور سچ کی بات بلند کریں خواہ یہ موقف بہت سے لوگوں کو مناسب نہ لگے”۔

جون 2018 میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے اعلان کیا تھا کہ تنظیم نے دمشق کے ساتھ تعلقات منقطع نہیں کیے ہیں۔ ہنیہ نے شام میں جاری واقعات کو ایک "فتنہ” قرار دیا تھا جس کا مقصد بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر حسابوں کو بے باق کرنا ہے۔

یاد رہے کہ بشار حکومت نے اس دوران ہزاروں فلسطینیوں کو گرفتار کیا اور جبری ہجرت پر مجبور کر دیا۔ اسی طرح شام میں فلسطینی پناہ گزینوں کے کیمپوں بالخصوص الیرموک کیمپ کو تباہ کر دیا گیا اور ان میں رہنے والوں کو واپس کیمپوں میں آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

حماس اور شامی حکومت کے درمیان تعلقات کو نقصان اس وقت پہنچا جب بشار الاسد حماس کے دفاتر کو بند کر دیا۔ اس کے بعد حماس نے دوحہ کا رخ کیا۔

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Welcome Back!

Login to your account below

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.