مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق خالد مشعل کی قیادت میں حماس کے وفد نے ریاض آمد کے بعد اہم حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کی جن میں دو طرفہ تعاون بالخصوص مسئلہ فلسطین کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔
خالد مشعل اس سے قبل جون 2012 ء کو سعودی عرب کے دورے پرآئے تھے۔ تب سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز تھے۔ شاہ سلمان کے زمان حکومت سنھبالنے کے بعد یہ ان کا پہلا سعودی عرب کا دورہ ہے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب فلسطینی تنظیموں بالخصوص حماس اور الفتح کے درمیان قومی مفاہمت کے لیے اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ سنہ 2007 ء میں حماس اور فتح کی قیادت نے مکہ مکرمہ میں سعودی عرب کی نگرانی میں مصالحی مذاکرات کیے تھے جس کے بعد دونوں جماعتوں نے "میثاق مکہ” کے نام سے ایک مفاہمتی فارمولے پراتفاق کیا تھا۔
پچھلے کچھ عرصے سے ذرائع ابلاغ میں خالد مشعل کے دورہ سعودی عرب کی خبریں آتی رہی ہیں۔ حماس کی جانب سے بھی مختلف مواقع پرجماعت اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ حماس نے عرب ممالک میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سعودی عرب کے مصالحتی کردار کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ خاص طورپر مرحوم شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی عرب قوتوں کے درمیان مفاہمتی کوششوں کا کھلے دل سے اعتراف کیا جاتا ہے۔
مبصرین کے خیال میں خالد مشعل کا دورہ سعودی عرب دو طرفہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک بہترین موقع ہے۔ سعودی عرب میں قیادت کی تبدیلی کے بعد حماس اور ریاض کے درمیان قربت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
