خالد مشعل حماس کے وفد کے ہمراہ بدھ کو ریاض پہنچے تھے جہاں کل جمعرات کو بھی ان کی مختلف حکام کے ساتھ بات چیت جاری رہی۔
شاہ سلمان کا زمام حکومت سنبھالنے کے بعد خالد مشعل کا یہ پہلا دورہ سعودی عرب ہے۔ اس سے قبل خالد مشعل جون 2012 ء میں سابق سعودی فرمانروا اور خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی دعوت پر سعودی عرب کے دورے پرآئے تھے۔
مرکزاطلاعات فلسطین نے خالد مشعل اور حماس کے وفد کے دورہ سعودی عرب کی اہمیت پر ماہرین کی آراء کی روشنی میں ایک رپورٹ مرتب کی ہے۔
دورہ طے شدہ منصوبے کا حصہ ہے
فلسطینی تجزیہ نگار عدنان ابو عامر نے خالد مشعل کی قیادت میں حماس کے وفد کے دورہ سعودی عرب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حماس کی قیادت کا دورہ ریاض طے شدہ پلان کا حصہ ہے اسے اچانک دورہ نہیں قراردیا جاسکتا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاہ سلمان کے تخت نشین ہونے کے بعد حماس کو ریاض کی جانب سے مثبت اشارے دیے گئے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ ریاض حماس کو کچھ مختلف انداز میں دیکھ رہا ہے۔
ابوعامر کا کہنا تھا کہ خالد مشعل کا دورہ سعودی عرب ہراعتبار سے نہایت مفید اور مثبت ہے اور اس دورے کے نتیجے میں دونوں طرف تعلقات کے نئے راستے کھولنے میں مدد ملے گی۔ اس دورے سے فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت کا عمل آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ مسئلہ فلسطین کےحل کے لیے سعودی عرب کی مساعی کو بھی مزید موثر بنایا جاسکے گا۔
فلسطینی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ اگرچہ حماس کے وفد نے اپنے دورے کا ایجنڈا نہیں بتایا لیکن مسئلہ فلسطین ان کے ایجنڈے کا اہم ترین حصہ ضرور ہوگا۔
خیال رہے کہ حماس کی قیادت کی جانب سے متعدد بار یہ اعلان کیا جاتا رہا ہے کہ جماعت سعودی عرب کے ساتھ دوستانہ مراسم کے قیام کی خواہاں ہے۔ سابق فرمانروا شاہ عبداللہ مرحوم کے دور حکومت کےآخری ایام میں حماس اور سعودی عرب کے درمیان بعض معاملات پر ایک دوسرے سے شکایات بھی پیدا ہوئی تھیں حماس ان شکایات کا ازالہ کرنا چاہتی ہے۔
حماس کے حوالے سے عالمی موقف میں تبدیلی
فلسطینی تجزیہ نگار علاء الریماوی کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پرحماس کے بارے میں ان قوتوں کا موقف بھی کافی تبدیل ہوا ہے جو کسی بھی صورت میں حماس سے بات چیت کو تیار نہیں تھے۔ خاص طورپر یورپی ممالک نے بھی یہ حقیقت تسلیم کی ہے کہ مسئلہ فلسطین کا دیر پا حل حماس کو الگ کرکے ممکن نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے علاوہ دوسرے ممالک بھی اب حماس کے بارے میں اپنے موقف میں تبدیلی لا رہے ہیں۔ یورپی یونین کے کئی وزراء حماس کے زیرکنٹرول غزہ کی پٹی کا متعدد بار دورہ کرچکے ہیں۔ یہ دورے اس بات کا اعلان ہیں کہ یورپ نے حماس کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے جماعت کو فلسطین کے قومی دھارے کا حصہ تسلیم کرلیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب یہ بات کوئی راز نہیں رہی کہ برطانیہ نے حماس کو اپنی سرزمین پرمذاکرات کی پیش کش کی ہے۔ عالمی سطح پرحماس کی قوت کو تسلیم کرنے سے اس تاثر کو بھی تقویت ملتی ہے کہ حماس نہ صرف فلسطین بلکہ خطے کے ممالک میں جاری شورش کے حل میں بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
قابل غوراہم موضوعات
حماس کے وفد کے دورہ سعودی عرب اور سعودی قیادت کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں اہم موضوعات کیاہوسکتے ہیں؟ اس پر بات کرتے ہوئے تجزیہ نگار علاء الریماوی کا کہنا تھا کہ سعودی قیادت کے ساتھ ممکنہ طورپر حماس کی قیادت غزہ کی تعمیر نو، فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت اہم ترین موضوعات ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاہ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات کی بہتری بھی ایجنڈے کا حصہ ہوگا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ خالد مشعل کا دورہ سعودی عرب ریاض کی تبدیل ہوتی خارجہ پالیسی کے دوران تعلقات کوبہتر بنانے میں نہایت اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے۔ حماس ایک بار پھرسعودی عرب کے قریب ترہونا چاہتی ہے اور خالد مشعل کا دورہ اس میں کافی معاونت کرسکتا ہے۔
اخبار”خلیج آن لائن” نے حماس کے ایک رہ نماء کا بیان نقل کیا جس میں انکا کہنا ہے کہ خالد مشعل کا دورہ سعودی عرب دوطرفہ تعلقات کو بہتربنانے کی مساعی کاحصہ ہے جو کچھ عرصے سے بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہیں۔
حماس رہ نما کا مزید کہنا ہے کہ خالد مشعل کے دورے کے دوران سعودی عرب کے فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت کے حوالے سے کردارپربھی بات چیت شامل ہوگی۔حماس اور تحریک فتح کے درمیان قربت پیدا کرنے کی سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی مساعی کو آگے بڑھانے میں سعودی عرب کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
