مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ایک ٹی وی انٹرویو میں حماس رہنما نے کہا کہ سابقہ حکومت کے ملازمین اپنی ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیں۔ ہم انہیں کیوں چھوڑ دیں۔ حماس ان تمام ملازمین کے حقوق اور تنخواہوں کی فراہمی کی ذمہ دار ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے کہا کہ ان کی جماعت فلسطین میں مفاہمت کی خواہاں ہے اور اپنے عمل سے یہ ثابت کیاہے کہ قومی مفاہمت ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ہم نے کبھی بھی فلسطینیوں کو دو قومیں تصور نہیں کیا ہے۔
تاہم انہوں نے صدر محمود عباس کی جماعت الفتح کی قومی وحدت کے حوالے سے کمزور پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ابو مرزوق نے کہا کہ قومی مفاہمت اور اتحاد کے لیے جس جذبے کا اظہار حماس نے کیا ہے فتح کی جانب سے ایسا نہیں کیا گیا۔ ان کی تمام تر کوششیں انتخابات کے موضوعات کے گرد گھومتی رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی اتھارٹی نے غزہ کی پٹی کو فلسطین کا حصہ سمجھا ہی نہیں اور اسے ایک ناکارہ حصہ سمجھ کر سنہ 2015ء کے مالی سال کے بجٹ میں غزہ کا کوئی حصہ ہی مقرر نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے غزہ کو فلسطین سے الگ کر کےفلسطینی قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کی۔
بیت المقدس میں فلسطینیوں کی صہیونی ریاست کے خلاف جاری تحریک پربات کرتے ہوئے حماس رہنما نے کہا کہ بیت المقدس میں عوامی مزاحمت نے مسجد اقصیٰ کی تقسیم کی صہیونی سازش ناکام بنا دی ہے۔
بیت المقدس کے دفاع اور مسجد اقصیٰ کی آزادی کے لیے عالمی برادری بالخصوص عالم اسلام کی کوششوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے حماس رہنما نے مسلم امہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے وسائل کا رخ قبلہ اول کی آزادی کی طرف موڑ دیں۔ انہوں نے کہا بیت المقدس میں اٹھنے والی عوامی مزاحمتی تحریک صہیونی ریاست کے جبر و تشدد اور مظالم کا نتیجہ ہے جس کا آغاز انفرادی مزاحمتی کارروائیوں سے ہوا لیکن اب وہ ایک منظم تحریک میں بدلتا جا رہا ہے۔ فلسطینیوں کی اس منظم تحریک کو عرب اور تمام مسلمان ممالک کی جانب سے بھی مالی ،مادی اور معنوی حمایت اور مدد ملنی چاہیے۔
غزہ کی تعمیرنو کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ابو مرزوق نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مندوب رابرٹ سیری کی جانب سے اپنے طور پر غزہ کی تعمیر نو کا کوئی پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ حماس کے سامنے وہ پروگرام پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی بیرونی ایجنٹ کے ذریعے غزہ کی تعمیر نو نہیں کرائیں گے۔ حماس کے کارکنان اور فلسطینی قوم خود جنگ سے تباہ حال غزہ کی تعمیر نو کے لیے کافی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
