مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ کی پٹی میں حماس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اور مخلوط قومی حکومت قبلہ اول کے دفاع کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ صرف بیان بازی اور مذمتی قراردادوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ مذمتنی بیانات سے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے بجائے قومی مزاحمت کا راستہ اپنایا جائے۔
حماس نے مقبوضہ بیت المقدس میں جمعرات کے روز فلسطینی نوجوان معتز حجازی کی صہیونی فوج کے ہاتھوں ظالمانہ شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ شہید حجازی نے قبلہ اول کے دفاع کے لیے جان دی ہے اور پوری قوم کو ایسے سپوتوں پر فخر ہے۔
بیان میں مسجد اقصیٰ میں فلسطینی مسلمانوں کے داخلے پر اسرائیل کی پابندی عاید کیے جانے کی بھی شدید مذمت کی گئی اور صہیونی ریاست کو خبردار کیا گیا کہ اس نے قبلہ اول میں مسلمان نمازیوں کے داخلے پرپابندی عاید کرکے اپنی تباہی کو دعوت دی ہے۔ اس اقدام پر صرف فلسطین ہی نہیں بلکہ پوری مسلم اور عرب دنیا کے ساتھ عالمی برادری کی جانب سے بھی صہیونی ریاست کو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
حماس نے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور اتھارٹی کے دیگر نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل سے دوستی، تعلقات اور مذاکرات کی باتیں کرنا چھوڑ دیں۔ اسرائیل مذاکرات سے مطالبات پورے کرنے والا نہیں ہے۔ مسجد اقصیٰ مذاکرات سے صہیونی تسلط آزاد نہیں ہوگی بلکہ اس کے لیے غیرمعمولی قربانیاں دینا پڑیں گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
