(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) حماس اور غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ بدھ کی رات غزہ میں قید چار اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں واپس کر دی جائیں گی، جبکہ ثالثوں نے جنگ بندی کے حالیہ تنازعے کو حل کر لیا ہے اس کے بدلے اسرائیل 602 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا، جن کی رہائی گزشتہ ہفتے کے آخر سے مؤخر کر دی گئی تھی۔ اسرائیل نے الزام لگایا تھا کہ حماس نے یرغمالیوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا تھا، جس کے باعث اس نے قیدیوں کی رہائی کو روک دیا تھا
غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے جنگی مجرم وزیر اعظم کے دفتر نے اعلان کیا کہ چار یرغمالیوں کی لاشیں واپس کر دی جائیں گی، لیکن کسی حماس کی تقریب کے بغیر۔ اسرائیلی جیل سروس نے بھی اعلان کیا کہ وہ قیدیوں اور غزہ کے زیر حراست افراد کی رہائی کی تیاری کر رہا ہے۔
حماس نے بھی اس تبادلے کی تصدیق کی، جبکہ فلسطینی قیدیوں کے میڈیا دفتر کے مطابق، غزہ کے ایک اسپتال میں رہا کیے گئے فلسطینیوں کو وصول کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
امریکی ایلچی کا دورہ اور جنگ بندی کا اگلا مرحلہ
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف خطے کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اور حماس جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر بات چیت کا آغاز کریں، جبکہ جنگ بندی کا پہلا مرحلہ ہفتے کے روز ختم ہو رہا ہے۔
ہزاروں اسرائیلیوں کی ریلی اور یرغمالیوں کی تدفین
خبر کے مطابق، ہزاروں صیہونی آباد کار وسطی اور جنوبی اسرائیل کی سڑکوں پر جمع ہوئے تاکہ ان یرغمالیوں کی آخری رسومات میں شرکت کر سکیں، جن کی لاشیں گزشتہ ہفتے حماس نے واپس کی تھیں۔ ان میں شیری بیباس اور ان کے دو بچے، ایریل اور کفیر شامل تھے۔
یہ افراد 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں یرغمال بنا لیے گئے تھے، جس کے بعد غزہ پر صیہونی دہشتگردی کا آغاز ہوا تھا۔ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ یرغمالی حماس کی قید میں قتل کر دیے گئے تھے، جبکہ حماس نے کہا تھا کہ وہ اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہوئے۔
قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ
منگل کی رات حماس نے اعلان کیا کہ اس کا وفد، جس کی قیادت غزہ کے رہنما خلیل الحیہ کر رہے تھے، مصر میں مذاکرات مکمل کر چکا ہے اور فلسطینی قیدیوں کی تاخیر شدہ رہائی کے مسئلے کا حل نکال لیا گیا ہے۔
حماس نے مزید کہا کہ فلسطینی قیدیوں کو ان چار اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کے ساتھ بیک وقت رہا کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، مزید فلسطینی خواتین اور بچوں کو بھی آزاد کیا جائے گا۔
حماس کی جنگ بندی معاہدے سے وابستگی
خلیل الحیہ نے زور دے کر کہا کہ حماس جنگ بندی معاہدے کے تمام مراحل اور نکات پر مکمل عمل کرے گی۔
صیہونی وزیر اعظم کا بیان
غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے حکام نے بھی تصدیق کی کہ ثالثوں کے ساتھ معاہدہ طے پا چکا ہے۔ بدھ کی دوپہر وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے ایک مختصر بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا:” ہمارے چار فوت شدہ یرغمالیوں کو آج رات پہلے مرحلے کے تحت واپس کیا جائے گا، ایک طے شدہ طریقہ کار کے مطابق اور بغیر کسی حماس کی تقریب کے۔”
یرغمالیوں کے نام اور اسرائیلی جیل سروس کا اعلان
حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کے ترجمان نے اعلان کیا:”معاہدے کے تحت، عزالدین القسام بریگیڈز نے فیصلہ کیا ہے کہ آج رات چار یرغمالیوں کی لاشیں واپس کی جائیں گی۔”
