(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق، حماس کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی کہ یہ لاشیں کچھ دیر قبل ریڈ کراس کے حوالے کی گئی ہیں۔ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان، ابو عبیدہ نے ان یرغمالیوں کی شناخت ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ ان میں تساحی عیدان، ایتساک الجریط، اوھاد یہلومی اور شلومو منصور شامل ہیں۔ یہ تمام افراد 7 اکتوبر 2023 کو اپنے کیبُٹس گھروں سے اغوا کیے گئے تھے۔
یہ قیدیوں کے تبادلے کا پہلا مرحلہ تھا، جو 19 جنوری کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کے تحت انجام پایا۔ مختلف رکاوٹوں کے باوجود یہ جنگ بندی اب تک برقرار ہے، لیکن اس کا پہلا مرحلہ اس ہفتے ختم ہونے والا ہے۔ حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم، اس نے واضح کیا کہ باقی یرغمالیوں کی رہائی صرف جنگ بندی کے مکمل نفاذ کے ساتھ ہی ممکن ہو سکتی ہے۔
گزشتہ روز مصری ثالثوں کی مداخلت کے بعد، کئی دنوں کے تعطل کے بعد، چار یرغمالیوں کی لاشوں کے تبادلے کو ممکن بنایا گیا۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیل 620 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا، جو یا تو غزہ میں گرفتار کیے گئے تھے یا اسرائیلی جیلوں میں قید تھے۔
اس سے قبل، ہفتے کے روز اسرائیل نے حماس کی جانب سے چھ یرغمالیوں کو ایک عوامی تقریب میں حوالے کرنے پر قیدیوں کی رہائی سے انکار کر دیا تھا۔ اس تقریب میں حماس نے زندہ یرغمالیوں اور تابوت میں بند ان کی باقیات کو ایک مجمع کے سامنے پیش کیا، جس پر اقوام متحدہ سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کی گئی۔ تاہم، آخری تبادلہ کسی عوامی تقریب کے بغیر مکمل کیا گیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی کہ اسرائیل کو چار یرغمالیوں کی لاشیں تابوت میں موصول ہوئیں۔ لاشوں کی ابتدائی شناخت اسرائیلی حدود میں کی جا رہی ہے، اور باضابطہ تصدیق کے بعد یرغمالیوں کے اہلِ خانہ کو اطلاع دی جائے گی۔
یہ معاہدہ اس وقت تاخیر کا شکار ہو گیا تھا جب حماس نے شری بیباس کی باقیات کی بجائے ایک نامعلوم فلسطینی خاتون کی لاش اسرائیل کے حوالے کر دی تھی، جسے اگلے دن درست لاش کے ساتھ تبدیل کیا گیا۔ طبی ذرائع کے مطابق، جمعرات کو اس نامعلوم خاتون کی لاش کو غزہ کے ایک اسپتال واپس بھیج دیا گیا۔
اسرائیلی وزارتِ صحت کے مطابق، اسرائیل کو واپس کی گئی چار لاشوں کا مکمل فرانزک معائنہ کیا جائے گا تاکہ ان کی موت کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، اب تک تقریباً 30 یرغمالی غزہ میں ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے کچھ کو ان کے اغواکاروں نے قتل کیا، جبکہ دیگر اسرائیلی حملوں میں مارے گئے۔
یہ صورتحال اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازع کے تناظر میں اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جہاں قیدیوں کا تبادلہ ایک نازک اور حساس معاملہ بنا ہوا ہے۔
