مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کی جانب سے بعض عرب اخبارات میں شائع ہونے والی ان خبروں کو منگھڑت قرار دیا جن میں کہا گیا تھا کہ حال ہی میں خالد مشعل نے خفیہ طور پر ترک حکام سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ حماس اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات ماضی کی طرح مضبوط کرنے اور عرب ممالک سے ذرا فاصلے پر رہنے کا فیصلہ کررہی ہے۔
اخبارات میں شائع ہونے والی ان خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے حماس کے مرکزی رہ نما جمال عیسیٰ نے کہا کہ "اخبارات میں جو کچھ لکھا اور چھاپا جا رہا ہے اس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ اخبارات میں شائع کی گئی افواہیں ان کے مدیروں کی خود ساختہ کہانیاں ہیں۔ حماس کے کسی ایک ملک کے ساتھ نہیں بلکہ تمام عرب اور غیر عرب ممال کے ساتھ یکساں اور دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔ حماس کسی ایک ملک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دیتی بلکہ مسئلہ فلسطین کی حمایت کرنے والے تمام ممالک کے ساتھ برابر کے تعلقات رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اخبارات میں من گھڑت کہانیاں چھاپ کر حماس کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ حماس عرب ممالک سے فاصلے بڑھانے اور ایران سے قربت پیدا کرنے کے کوشاں ہے۔ حالانکہ حماس نے ماضی میں بھی کبھی اسلامی دنیا سے تعلقات میں کوئی امتیاز نہیں برتا۔
جمال عیسیٰ کا کہنا تھا کہ حماس ہی کو نہیں بلکہ پوری قوم کو مسلم امہ کے تعاون کی ضرورت ہے۔ کوئی ایک مسلمان یا عرب ملک فلسطینیوں کی ان ضروریات کی تکمیل نہیں کرسکتا ہے۔ اس لیے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حماس عرب ممالک کو چھوڑ کر صرف ایران سے تعلقات استوار کرے۔ ہمارا مشن فلسطین کی آزادی ہے۔ حماس کے ہر اس ملک کے ساتھ تعلقات قایم ہیں جو بھی مظوم فلسطینی قوم کی حمایت اور مدد کرتا ہے۔
جمال عیسیٰ کا کہنا تھا کہ "کریسچن سائنس مانیٹر” میں ابو حمزہ نامی ایک غیر معروف شخص کا ایک بیان چھاپا گیا ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر حماس کا رکن ہے۔ حالانکہ حماس ایسے کسی شخص سے واقف نہیں ہے۔ بلکہ جعلی ناموں کے ساتھ من پسند افواہیں اڑا کر حماس کو بدنام کرکے تحریک آزادی فلسطین کو کمزور کرنے کی سازش کی جاتی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
