انسانی حقوق کے ذرائع نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ اسرائیل کی ایک عدالت کی جانب سے ملٹری پراسیکیوٹر جنرل کی درخواست پر جمیل ناصیف کی مدت حراست میں پانچویں بار توسیع کرتے ہوئے مزید چھ ماہ کے لئے انہیں نظر بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ صیہونی حکام نے 12 جنوری 2013 ء کو جیل سے رہائی کے محض تین ماہ بعد دوبارہ حراست میں لے لیا تھا، اب تک وہ 44 ماہ سے مسلسل انتظامی حراست میں ہیں اور انہیں طولکرم میں قائم اسرائیل کی ھداریم جیل میں رکھا گیا ہے۔
رافت جمیل ناصیف مجموعی طور پر اب تک اسرائیلی جیلوں میں 13 سال کا عرصہ قید کاٹ چکے ہیں۔ ان کی پہلی گرفتاری 19 اگست 1990 کو عمل میں لائی گئی۔
تحریک انتفاضہ الاقصیٰ کے دوران اسرائیلی فوج نے انہیں فلسطین سے نکال دیا تھا۔ بعد ازاں وہ اسرائیلی فوج کی ہٹ لسٹ پر بھی رہے تاہم انہیں حراست میں لے لیا گیا تھا۔ اس وقت ان کی ایک بچی ہے جس کی عمر فقط ڈیڑھ سال ہے۔ وہ شادی کے بعد اپنی فیملی کے ساتھ محض ساڑھے تین ماہ رہے جس کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
