(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسلامی تحریک مزاحمت’’حماس‘‘ کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے فلسطینی قیدیوں کے قومی دن کی مناسبت سے ’یوم اسیران‘ کے موقع پرایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل تمام فلسطینیوں کو جلد از جلد رہا کرایا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق فلسطین میں یوم اسیران اور حماس کے سابق رہنما ڈاکٹر عبدالعزیز الرنتیسی شہید کے یوم شہادت کی مناسبت سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ وہ وقت زیادہ دور نہیں جب اسرائیلی زندانوں میں پابند سلاسل تمام فلسطینی رہا ہونے کے بعد اپنے گھروں میں ہوں گے۔خالد مشعل نے فلسطینی عوام پر زور دیا کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور قومی مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ہرممکن لچک کا مظاہرہ کریں۔ خالد مشعل نے کہا کہ فلسطینی سیاسی جماعتوں کے درمیان پچھلے دو سال سے قومی مفاہمت کے لیے بات چیت جاری ہے مگر بعض قوتوں کے غیر لچک دار رویے کے باعث قومی مفاہمت کا عمل آگے بڑھانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ فلسطینی سیاسی قوتیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرتے ہوئے مفاہمت کے عمل میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کریں اور دشمن کے خلاف اپنی صفوں میں یگانگت پیدا کریں۔
حماس رہنما کا کہنا ہے کہ فلسطینی مجاھدین نے ہمیشہ اپنی اخلاقی برتری ثابت کی ہے۔ کئی سال تک فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیل کے ایک فوجی گیلاد شالیت کو جنگی قیدی بنائے رکھا اور اسے ہرممکن سہولت فراہم کی گئی۔ اس کے مقابلے میں اسرائیلی قید خانوں میں پابند سلاسل فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی سنگین پامالیاں جاری ہیں۔
حماس کے رہنما نے فلسطینیوں کے سلسلے میں صہیونی حکومت کے ظالمانہ اقدامات اور پالیسیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی دشمن کے مقابلے میں فلسطینی عوام کا ردعمل ہمیشہ اعلی اسلامی اور انسانی اقدار اور اصولوں پراستوار رہا ہے۔
انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ صیہونی دشمن کے ساتھ حماس کی جنگ ہمیشہ فلسطینی سرزمینوں کے اندر ہی رہی ہے کہا کہ تحریک حماس کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی – انہوں نے کہا کہ قومی مفاہمت کے حصول کے لئے تحریک فتح اور پھر سبھی فلسطینی گروہوں کے ساتھ قومی آشتی کے مذاکرات کو کامیاب بنانے کے سلسلے میں حماس اپنی کوششیں بدستوری جاری رکھے گی۔
