مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے ترجمان سامی ابو زھری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مغربی کنارے میں عباس ملیشیا کے وحشیانہ کریک ڈائون پر خاموش رہنے والی فلسطینی جماعتیں اور عرب ممالک بھی صورت حال کی خرابی کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غرب اردن میں سیاسی جماعتوں بالخصوص حماس کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے اور ان نتائج کی ذمہ دار فلسطینی اتھارٹی ہو گی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ حماس نے قومی مفاہمت کی خاطر تمام سیاسی جماعتوں اور فلسطینی اتھارٹی کے حوالے سے لچک دار موقف اپنائے رکھا ہے مگر اب مغربی کنارے کی موجودہ سیاسی صورت حال بالخصوص بلا جواز گرفتاریوں کے باعث حماس کو بھی سخت موقف اپنانے پر مجبور کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ پچھلے دو ہفتوں کےدوران مغربی کنارے میں صدر محمود عباس کے زیرکمانڈ فورسز نے کریک ڈائون میں حماس کے کم سے کم 250 کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
