مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے غزہ کی پٹی میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ مصر کی ایک عدالت میں القسام بریگیڈ کے خلاف مقدمہ بازی کا اصل نشانہ فلسطین کی کوئی تنظیم نہیں بلکہ اس کا ہدف اور نشانہ فلسطینی تحریک آزادی ہے۔ القسام بریگیڈ کو وہی عناصر دہشت گرد قرار دے کر اس پر پابندی عاید کرسکتے ہیں جو فلسطینیوں کی آزادی کے لیے جدو جہد کے مخالف اور اسرائیل نوازی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ مصری عدالت میں دائر کردہ اس مقدمے کا فایدہ صرف اسرائیل کو ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حماس کے خلاف پابندیوں کا یہ کوئی پہلا موقع یا واقعہ نہیں بلکہ ماضی میں بھی اس نوعیت کی کئی سازشوں کا سامنا کرتی رہی ہے۔ ان تمام سازشوں کا مقصد حماس نہیں بلکہ فلسطینی قوم کی آزادی کے لیے مسلح جدو جہد ہے۔ فلسطینی عوام اس وقت آزادی کی جدو جہد میں کامیابیاں حاصل کررہے ہیں۔
فلسطینی مجاھدین کی فتح و نصرت فلسطین دشمنوں کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں ہو رہی ہے۔ وہ فلسطینیوں کی اولوالعزمی، ھیبت اور دشمن پران کے خوف کو کچلنے کی سازش کررہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں فوزی برھوم کا کہنا تھا کہ مصر میں کچھ عرصے سے حماس کے خلاف جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے وہی انداز صہیونی ریاست نے عرصہ دراز سے پوری فلسطینی قوم بالخصوص حماس اور اہالیان القدس کے خلاف اپنا رکھا ہے۔ ہم مصری عدالت میں القسام پر پابندیوں سے متعلق مقدمے کی مذمت کرتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ ہفتے کے روز قاہرہ کی ایک عدالت میں حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا گیا ہے جس میں بریگیڈ کو دہشت گرد گروپ قرار دے کر اس پر پابندی عاید کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
