• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
اتوار 14 جون 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home حماس

القسام کی گوریلا کارروائی میں حاصل کردہ اسرائیلی اسلحے کی نمائش

بدھ 26-11-2014
in حماس
0
plf gorila
0
SHARES
0
VIEWS

فلسطین کے گنجان آباد علاقے غزہ کی پٹی پر رواں سال موسم گرما میں جولائی اور اگست کے مہینوں کے دوران اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کی جہاں ہولناکیاں فلسطینی قوم کے دل و دماغ میں تازہ ہیں وہیں فلسطینی مجاھدین کی دشمن کو بعض کارروائیوں میں پہنچائے جانے والے جانی و مالی نقصان کے واقعات جذبہ حریت کو مزید مہمیز دینے کا موجب بنتے ہیں۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حال ہی میں اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے عسکری ونگ عزالدین القسام شہید بریگیڈ نے غزہ جنگ کے دوران ایک  گوریلا کارروائی کے دوران دشمن کے مال غنیمت میں لوٹے گئے اسلحہ کی نمائش اور بتایا کہ مجاھدین کس طرح صہیونی فوجیوں پر حملہ کرکے انہیں اسلحہ اور لاشیں چھوڑ کر فرار کرا دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ 20 رمضان المبارک بہ مطابق 18 جولائی 2014ء کی رات کا ہے جب القسام بریگیڈ کے جان ثاروں نے شمالی غزہ کی پٹی میں بیت لاھیا کے مقام پر گھا لگا کر اسرائیلی فوج پر حملہ کیا اور مال غنیمت میں اسرائیلی فوج کا اسلحہ اور بھاری مقدار میں دیگر جنگی سازو سامان لوٹ لیا۔

کارروائی کا آغاز

القسام بریگیڈ کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے زمینی، فضائی اور سمندری اطراف سے حملے جاری تھے اور فلسطینی مجاھدین بھی بساط بھر دشمن کے خلاف جوابی کارروائیوں میں مصروف عمل تھے۔ مجاھدین کے پاس زیادہ مناسب جوابی کارروائی کے لیے دو بد لڑائی یا گوریلا کارروائیاں تھیں۔ مجاھدین نے منصوبہ بنایا کہ چونکہ دشمن فوج شمالی غزہ کی طرف سے بیت لاھیا کے مقام سے دراندازی کرے گی لہٰذا اس کے راستے میں ایک کمین گاہ قائم کی جائے اور دشمن کے فلسطینی علاقے میں داخل ہوئے رات کی تاریکی میں ان پر یلغار کردی جائے۔ یہ ایک بہترین اسکیم تھی اور پر عمل درآمد کے لیے بیت لاھیا میں ہی میں ایک سرنگ کی کھودائی شروع کردی گئی۔

مجاھدین نے راتوں رات سرنگ کھود ڈالی اور رات کے آخری پہروں میں حسب توقع صہیونی فوجی علاقے میں داخل ہونے کے لیے آگے بڑھنا شروع ہوئے۔ اسرائیلی آرمی چیف جنرل بینی گانٹنز اور وزیردفاع موشے یعلون نے فوجیوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ غزہ میں داخل ہوتے ہی اپنے راستے میں آنے والی خشک و تر چیز کو نیست و نابود کرتے جائیں۔ اس کے جواب میں القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے دشمن کو زمینی لڑائی میں دانت شکن جواب دینے کی دھمکی دی گئی تھی۔

چنانچہ یہودی فوجی جیسے ہی بیت لاھیا میں مجاھدین کی کمین گاہ کی طرف بڑھنا شروع ہوئے تو گھات میں بیٹھے مجاھدین نے دشمن پر یلغار کردی۔ فلسطینی مزاحمت کار نہایت بے جگری سے لڑے اور دشمن کے چھکے چھڑا دیے۔ یہودی فوجیوں کی اس موقع پر بزدلانہ پن کی کیفیت قابل دید تھیں جو پکار پکار کرکہہ رہے تھے وہ کسی عذاب کی وادی میں داخل ہوگئے ہیں۔ اب وہ موشے یعلون کا وہ پیغام بھول چکے تھے جو انہیں غزہ میں داخل ہوکر ہر خشک و ترچیز کو تباہ کرنے کا دیا گیا تھا۔ انہیں اپنی جانوں کے لالے پڑے ہوئے تھے اور اسلحہ اور دیگرسامان چھوڑ کر فرار پرمجبور ہوگئے۔

’’عسقلان آپریشن‘‘ اور پانچ مجاھدین کی شہادت

القسام بریگیڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ مجاھدین نے بیت لاھیا میں ایک کمین گاہ کے ذریعے چھپ کردشمن پرحملہ کرنے کی اس کارروائی کو ’’عسقلان آپریشن‘‘ کا نام دیا۔ یہ جگہ شمالی غزہ کی سرحد کے قریب واقع فلسطینی شہرعسقلان سے چند سو میٹر کے فاصلے پر تھی جہاں مجاھدین کا ایک تربیتی مرکز بھی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ القسام بریگیڈ نے اس آپریشن کو ’’عسقلان سرحدی کارروائی‘‘ کا نام دیا جس میں تنظیم کے پانچ جانثاروں علا طنطیشی، عمار حمدونہ، حمزہ ماضی، طارق العجرمی اور اسماعیل خلہ نے جام شہادت نوش کیا لیکن اپنی جانوں پر کھیل کر صہیونی دشمن فوجیوں کو وہ مزہ چکھایا جو انہیں بھی پوری زندگی یاد رہے گا۔

دشمن فوج لاشوں کے ساتھ پسپائی

آپریشن کے انچارج ابوحمزہ نامی ایک مجاھد نے بتایا کہ انہوں نے دشمن پر حملے کے لیے جو سرنگ تیار کی اس میں دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری جنگی ہتھیار رکھ لیے۔ ان میں متعدد بارودی  سرنگیں، بارود سے بھری جیکٹیں، آرپی جی راکٹ، مشین گنیں اور ہنڈ گرنیڈ سمیت مجاھدین دیگر ہتھیاروں سے لیس تھے۔

مقامی وقت کے مطابق آپریشن تقریبا چار بجے اختتام پذیر ہوا اور دشمن اپنی لاشیں لے کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ آپریشن میں پانچ مجاھدین نے بھی اپنی شہادت کی نذر پوری کرلی تھی لیکن وہ دشمن کو پسپا کرنے اور مجاھدین کو ڈھیروں مال غنیمت دے گئے تھے۔ ابو حمزہ نے بتایا کہ کارروائی میں زخمی اور ہلاک ہونے والے فوجیوں کو ہیلی کاپٹروں کی مدد سے وہاں سے لے جایا گیا۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.