مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ "فیس بک” پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے کہا کہ مصرکی تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ نہیں جیسا کہ گذشتہ روز دیکھا گیا۔ ماضی میں مصر نے ہمیشہ آزادی پسند قوتوں کا ساتھ دیا۔ ایسا پہلی بار ہوا کہ مصری عدالت نے ماضی کے تمام اخلاقی، جمہوری قومی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے القسام بریگیڈ کو "دہشت گرد” تنظیم قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں القسام بریگیڈ اور مصر کی انٹیلی جنس کے درمیان شاندار دوستانہ تعلقات اور روابط رہے ہیں۔ القسام نے مصر کے خفیہ اداروں کےساتھ ہر ممکن تعاون کیا اور دونوں میں نہایت خوش گوار تعلق قائم رہا ہے۔ ہم حیران ہی کہ مصری عدالت نے بغیر کسی تحقیق اور ثبوت کے القسام بریگیڈ پر پابندیاں کیسے عاید کردیں۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے مغربی ملک بھی فلسطینی مزاحمت تحریک کی مزاحمت کرتے ہیں مگر ان کیجانب سے بھی کبھی اتنی عجلت میںایسا فیصلہ صادر نہیں کیا گیا سوائے اسرائیل کے دنیا میں کہیں بھی ایسی مثال نہیں ملتی جس میں القسام بریگیڈ پر اس عجلت میںپابندی لگاتے ہوئے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہو۔
خیال رہے کہ مصر کی ایک عدالت نے ہفتے کے روز ایک درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے القسام بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ مصری عدالت نے اس فیصلے پر حماس اور فلسطین کی دیگر مذہی اور سیاسی جماعتوں نے مصری عدالتی فیصلے کو غیرمنصفانہ قرار دے کر اسے مسترد کردیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
