ادھر دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ نے اسرائیلی آرمی چیف پر حملے کا دعویٰ کیا ہے تاہم وہ اس حملے میں معجزانہ طور پر محفوظ رہے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کے سرکاری میڈیا کے مطابق منگل کی شام اشکول کے مقام پر اسرائیلی فوج کی ایک چھائونی پر "ہاون ” راکٹ گرے جس کے نتیجے میں کم سے کم ایک فوجی ہلاک اور سات زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو "سوروکا” اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
القسام بریگیڈ نے اشکول ملٹری اکیڈیمی پرھاون راکٹ حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے اور ساتھ ہی دعویٰ کیا ہے کہ تنظیم کے بہادر جوانوں نے صہیونی آرمی چیف جنرل بینی گانٹز پر بھی حملہ کیا تاہم وہ بچ نکلنے میں کامیاب رہے ہیں۔
غزہ کے ایک فیلڈ آبزرویٹر کا کہنا ہے کہ القسام کی جانب سے صہیونی آرمی چیف کو گذشتہ روز نشانہ بنانے کی کوشش نہیں کی گئی انہیں گذشتہ جمعہ کو مشرقی غزہ کے قریب "ناحل عوز” کے مقام پر توپخانے سے کی گئی گولہ باری میں نشانہ بنایا گیا تاہم وہ اس میں معجزانہ طور پر بچ نکلنے میں کامیاب رہے تھے۔
فیلڈ آبزرویٹر نے بتایا کہ القسام بریگیڈ کے مجاھدین کو خفیہ ذرائع سے اسرائیلی آرمی چیف اور کئی دوسرے سرکردہ فوجیوں کی موجودگی کا پتا چلا تھا جس پر توپ خانے سے ان کے متوقع ٹھکانے پر گولہ باری کی گئی تاہم وہ اس جگہ سے فرار میں کامیاب ہوگئے تھے۔
ابو خلیل نامی آبزرویٹر نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی ذرائع سے بھی انہیں اطلاع ملی ہے کہ فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیلی آرمی چیف کے ایک ٹھکانے پر گولہ باری کی تھی تاہم وہ اس میں بچ نکلنے میں کامیاب رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی آرمی چیف اور دیگر عہدیداروں کے قافلے پر "ہاون 107” طرز کے راکٹوں سے بھی حملہ کیا گیا تھا تاہم وہ اس میں بھی بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔
