اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے سیاسی شعبے کے نائب صدر اور سابق وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی غزہ کی پٹی پر عائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے سے مشروط ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ میں اس وقت تک مستقل جنگ بندی کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک غزہ کے تمام بیرونی راستے کھول نہیں دیے جاتے۔
اسماعیل ھنیہ نے ان خیالات کا اظہار الاقصیٰ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قوم کی قربانیاں ہمیں بنیادی حقوق اور مطالبات پر سودے بازی کی کسی صورت میں اجازت نہیں دیتیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی دشمن کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں ہمیں خوف زدہ نہیں کرسکتیں بلکہ ان دھمکیوں سے ہم جنگ بندی بات چیت میں اپنے مطالبات پر زیادہ سختی سے کار بند ہو جائیں گے۔
اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ قاہرہ میں فلسطینی مذاکراتی وفد جنگ بندی کے لیے بات چیت کررہا ہے لیکن جنگ بندی کے لیے کسی قسم کی بلیک میلنگ کا شکار ہرگز نہیں ہوں گے۔
