مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ایک عربی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں اسامہ حمدان کا کہنا تھا کہ حماس غزہ کی پٹی میں مزاحمت کاروں کے ہاں جنگی قیدی بنائے گئے اسرائیلی فوجیوں کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتائے گی۔ اس بات کا اعتراف اسرائیل کو کرنا ہوگا کہ غزہ میں اس کے کتنے فوجی جنگی قیدی کے طورپر موجود ہیں۔
انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ اپنے فوجیوں کی گنتی کرے اور بتائے کہ اس کے کتنے فوجی لاپتا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حماس صہیونی یرغمالیوں کے بارے میں خاموش رہے گی۔ اسرائیل کو ماضی میں رہا کیے گئے ان فلسطینیوں کو بھی کسی نئے معاہدے سے قبل رہا کرنا ہوگا جنہیں پچھلے دو سال میں دوبارہ گرفتار کیا گیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں اسامہ حمدان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر حماس کی قیادت کے سامنے اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے ثالثی کی پیشکشیں کی گئی ہیں تاہم فی الحال حماس کی قیادت کی جانب سے اس ضمن میں کوئی اہم پیش رفت نہیں کی ہے۔انہوں نے کہا کہ حماس اور اسرائیل کےدرمیان قیدیوں کے معاملے میں کسی تیسرے ذریعے سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ حماس قیدیوں کے تبادلے کے کسی نئے سمجھوتے کے لیے بات چیت سے قبل سابقہ معاہدے کے تحت رہا ہونے فلسطینیوں کی رہائی کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 2010 ء میں مصر کی ثالثی سے حماس اور اسرائیل کےدرمیان طے پائے قیدیوں کے تبادلے کے ایک سمجھوتے کے تحت اسرائیل نے 1050 فلسطینی رہا کیے تھے۔ ایک سال قبل غزہ کی پٹی پر جنگ مسلط کرنے سے قبل صہیونی فوج کے کریک ڈائون میں رہائی پانے والے 73 فلسطینیوں کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا تھا۔ ان میں سے 34 کی پرانی سزائیں بھی بحال کردی گئی تھیں۔
حماس نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل اپنے مزید جنگی قیدیوں کی رہائی کے لے بات چیت سے قبل ان 74 فلسطینی شہریوں کو رہا کرے۔ اس کے بعد مزید بات چیت کی جائے گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
